مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں رفع یدین کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ . ¤ وَقَدْ قَالَ مُرَّةُ : فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ الْيَمَامِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ ، وَكَانَ يُلَقَّنُ فَيَتَلَقَّنُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے ، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔