عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ بِلَالٌ إِذَا قَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالتَّكْبِيرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ پڑھا کرتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہنے کے لئے اٹھ جاتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِكُلِّ شَيْءٍ صَفْوَةٌ ، وَصَفْوَةُ الصَّلَاةِ : التَّكْبِيرَةُ الْأُولَى " قَالَ : فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : الْحَسَنُ بْنُ السَّكَنِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر چیز کا ایک خاص حصہ ہوتا ہے ، اور نماز کا خاص حصہ تکبیر اولیٰ ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن سکن ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن سکن ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَنَفَةً ، وَإِنَّ أَنَفَةَ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرَةُ الْأُولَى فَحَافِظُوا عَلَيْهَا " . ¤ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ فَقَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ : رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہر چیز کا کوئی آغاز ہوتا ہے ، اور نماز کا آغاز پہلی تکبیر ہے ، تو تم اس کی حفاظت کرو “ ۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں : میں نے یہ روایت رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انہوں نے یہ بات بتائی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابودردادء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند راوایت ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند راوایت ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ - أَوْ غَابَ - فَصَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَحِينَ سَجَدَ ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ : اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ فَخَرَجَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) غیر موجود رہے ، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی وہ نماز کے آغاز میں بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے رکوع میں جاتے ہوئے بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے جب سمع اللہ لمن حمدہ پڑھ لیتے تھے اس وقت تکبیر کہتے تھے جب سجدے سے سر کو اٹھاتے تھے اس وقت تکبیر کہتے تھے جب سجدے میں جاتے تھے اس وقت کہتے تھے جب دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے اس وقت ( بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے ) یہاں تک کہ اسی طرح انہوں نے اپنی نماز مکمل کی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو ان سے کہا: گیا لوگوں نے آپ کی نماز کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، تو وہ گھر سے باہر نکلے اور منبر پر کھڑے ہوئے اور بولے : اے لوگو ! اللہ کی قسم میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز کا طریقہ مختلف ہے یا مختلف نہیں ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ علامہ ہیثمی کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔