کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نیت کا بیان ، نماز سے نکلنے ( یعنی نماز توڑنے ) کی ممانعت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : تَعَوَّدُوا الْخَيْرَ فَإِنَّمَا الْخَيْرَ بِالْعَادَةِ ، وَحَافِظُوا عَلَى نِيَّاتِكُمْ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ بھلائی کو عادت کے طور پر اختیار کرو کیونکہ بھلائی عادت کے ساتھ ہوتی ہے ، اور نماز کے بارے میں اپنی نیتوں کی حفاظت کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا إِلَى غَيْرِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ زِيَادًا لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نماز ہو جائے ( یعنی تم نماز پڑھنا شروع کر دو ) تو اس سے نکل کر کسی دوسری چیز کی طرف نہ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ ذیاد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ ذیاد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ هَاجَرَ يَبْتَغِي شَيْئًا فَهُوَ لَهُ قَالَ : وَهَاجَرَ رَجُلٌ لِيَتَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا : أُمَّ قَيْسٍ ، فَكَانَ يُسَمَّى مُهَاجِرَ أُمِّ قَيْسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص جس چیز کے حصول کے لئے ہجرت کرے گا وہ ہی اسے ملے گی انہوں نے یہ بات بیان کی ایک شخص نے ہجرت اس لئے کی تھی تاکہ ایک عورت کے ساتھ شادی کر لے جس کا نام اُمّ قیس تھا تو اس شخص کو ام قیس کے مہاجر کا نام دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔