کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابکتاب و سنت پر عمل کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ ، فَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ - قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَجَوَامِعَهُ ، وَعَلِمْتُ خَزَنَةَ النَّارِ وَحَمَلَةَ الْعَرْشِ ، وَتُجُوِّزُ بِي ، وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے آپ الوداع کہنے لگے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں امّی نبی ہوں “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا : ) “” “” میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، مجھے واضح اور جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں ، مجھے جہنم کے نگران فرشتوں اور عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کا علم ہے ، اور مجھے سہولت دی گئی ، مجھے عافیت عطا کی گئی اور میری اُمت کو عافیت عطا کی گئی ، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو اور جب میں رخصت ہو جاؤں گا ، تو تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کرنا لازم ہے ، تم اس کے حلال کو حلال قرار دینا اور اس کے حرام کو حرام قرار دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المستد 183»
وَعَنِ ابْنِ شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرْفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا ، وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قرآن ، اس کی ایک طرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک طرف تمہارے ہاتھوں میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ! اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے اور کبھی بھی ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 779
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 188/22»
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الْقُرْآنَ جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : " فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرْفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَهْلِكُوا وَلَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جحفہ کے مقام پر موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، بے شک قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم یہ خوشخبری حاصل کرو ! اس قرآن کی ایک طرف ، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک طرف تمہارے ہاتھ میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ! اس کے بعد تم کبھی ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے اور کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 780
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1539 اخرجه الإمام الطبراني فى معجمه الصغير 98/2 أورده المؤلف فى كشف الاستار 120»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اتَّبَعَ كِتَابَ اللَّهِ هَدَاهُ اللَّهُ مِنَ الضَّلَالَةِ وَوَقَاهُ سُوءَ الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ; وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : ( فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ کی کتاب کی پیروی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے گمراہی سے ( بچا کر ) ہدایت نصیب کرے گا اور قیامت کے دن اسے برے حساب سے محفوظ رکھے گا ، اس کی ( دلیل ) یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ، تو وہ گمراہ نہیں ہو گا اور بدنصیب نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 781
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12437 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5466»
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ ، وَأَحِلُّو حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَاقْتَدُوا بِهِ وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ ، وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي ; كَيْمَا يُخْبِرُونَكُمْ ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ ، لِيَشْفِيَكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ ; فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ ، وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ ، وَلِكُلِّ آيَةٍ مِنْهُ نُورٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، أَمَا إِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ ، وَأُعْطِيتُ طه وَالطَّوْرَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى ، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَأُعْطِيتُ الْمُفَصَّلَ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَيْضًا : " فَمَا اشْتَبَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَاسْأَلُوا عَنْهُ أَهْلَ الْعِلْمِ يُخْبِرُوكُمْ " . ¤ وَلَهُ إِسْنَادَانِ : فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ ، وَفِي الْآخَرِ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَضَعَّفُهُ الْبَاقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن پر عمل کرو ! اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام قرار دو ، اس کی پیروی کرو ، اس کی کسی چیز کا انکار نہ کرو ، جو چیز تمہارے سامنے مشتبہ ہو ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور میرے بعد اولی الامر کی طرف لوٹا دو ، تاکہ وہ تمہیں اس حوالے سے خبر دیدیں ، تم لوگ تورات ، انجیل ، زبور اور انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے جو کچھ دیا گیا ، اُس پر ایمان رکھو ! قرآن اور اُس میں جو بیان موجود ہے ، وہ تمہیں شفا دے ، کیونکہ یہ ( قرآن ) شفاعت کرنے والا ہے ، جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور بحث کرنے والا ہے جس کی تصدیق کی جائے گی ، اس کی ہر ایک آیت میں قیامت تک کے لیے نور موجود ہے ” ذکر “ میں سے سورہ بقرہ مجھے عطا کی گئی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ” الواح “ میں سے سورہ طہٰ اور سورہ طور مجھے عطا کی گئی ہیں ، سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات ، عرش کے نیچے موجود خزانے سے مجھے عطا کی گئی ہیں ، اور مجھے اضافی طور پر ” مفصل “ عطا کی گئی ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُن کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے حوالے سے جو شبہ تمہیں لاحق ہو ، اُس کے بارے میں تم اہل علم سے سوال کرو ، وہ تمہیں بتا دیں گے ۔ “
اس روایت کی دو اسناد ہیں ، جن میں سے ایک میں عبداللہ بن ابوحمید نامی راوی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے اور دوسری میں عمران القطان نامی راوی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، جبکہ باقی حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ [ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ] قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ [ بِالْهَاجِرَةِ ] مَرْعُوبٌ فَقَالَ : " أَطِيعُونِي مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، وَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” ایک مرتبہ دن چڑھے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پریشان تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تک میں تمھارے درمیان موجود ہوں ، تم میری اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی کتاب ( کی پیروی کرنا ) لازم ہے ، تم اُس کے حلال کو حلال قرار دو اور اُس کے حرام کو حرام قرار دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 38/18»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ : كِتَابَ اللَّهِ ، وَأَهْلَ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَى الْحَوْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں تمہارے درمیان دو چیزیں نائب کے طور پر چھوڑ کے جا رہا ہوں ، اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض ( کوثر ) پر آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 784
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4921»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ أَذَلَّ اللَّهُ رَقَبَتَهُ مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، زَادَ مُسَدِّدٌ : " وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ : كِتَابُ اللَّهِ - تَعَالَى - وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَزَعَمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ رَجُلُ صِدْقٍ . قُلْتُ : وَمَنْ أَبُو مِحْصِنٍ مَعَ هَؤُلَاءِ ؟ !
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص زمین میں اللہ کے مقرر کردہ سلطان کی طرف چل کر جاتا ہے ، تاکہ اُسے ذلت کا شکار کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ذلت کا شکار کر دیتا ہے اور جو کچھ اُس کے لیے آخرت میں ( عذاب ) تیار کیا گیا ہے ، وہ اس کے علاوہ ہے ۔ “ مسدد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” زمین میں اللہ تعالیٰ کے سلطان سے مراد ، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ایک صاحب جن کا نام ابومحصن ہے ، ان کا یہ کہنا ہے : وہ ( یعنی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ) سچے آدمی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان حضرات ( یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد وغیرہ ) کے مقابلے میں ابومحصن نامی شخص کون ہے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11534»
وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامَ دَائِرَةٌ " . قَالَ : كَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : اعْرِضُوا حَدِيثِي عَلَى الْكِتَابِ ، فَمَا وَافَقَهُ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا قُلْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! اسلام کی چکی گھومتی رہے گی ، راوی نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ سے منسوب حدیث کو کتاب اللہ پر پیش کرو ، جو ( حدیث ) اس ( کتاب اللہ ) کے مطابق ہو گی ، وہ میری طرف سے ہو گی اور میں نے ہی وہ بات کہی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک اور منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سُئِلَتِ الْيَهُودُ عَنْ مُوسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا ، وَسُئِلَتِ النَّصَارَى عَنْ عِيسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا بِهِ ، وَإِنَّهُ سَتَفْشُو عَنِّي أَحَادِيثُ ، فَمَا أَتَاكُمْ مِنْ حَدِيثِي فَاقْرَءُوا كِتَابَ اللَّهِ فَاعْتَبِرُوهُ ، فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ ، وَمَا لَمْ يُوَافِقْ كِتَابَ اللَّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو حَاضِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہودیوں سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے اُن کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی ، یہاں تک کہ اُنہوں ( یعنی یہودیوں ) نے کفر کیا ، عیسائیوں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے ان کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی ، یہاں تک کہ انہوں ( یعنی عیسائیوں ) نے کفر کر دیا ، عنقریب میرے حوالے سے احادیث پھیل جائیں گی ، تمہارے پاس میری جو بھی حدیث آئے ، تو تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کرو ! اور اُس سے موازنہ کرو ، جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق ہو گی ، وہ میں نے کہی ہو گی ، اور جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق نہیں ہو گی ، وہ میں نے نہیں کہی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحاضر عبدالملک بن عبدربہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13224»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، يُحِلُّ حَلَالَهُ ، وَيُحَرِّمُ حَرَامَهُ - حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ وَدَمَهُ عَلَى النَّارِ ، وَجَعَلَهُ رَفِيقَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كَانَ الْقُرْآنُ حُجَّةً لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلِجٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَالنَّسَائِيُّ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَالِحٌ ، لَيْسَ بِالْمَتِينِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور دن رات اس کے ساتھ مصروف رہتا ہے ، وہ قرآن کے حلال کو حلال قرار دیتا ہے اور اس کے حرام کو حرام قرار دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کا گوشت اور اس کا خون آگ پر حرام قرار دے دیتا ہے ، اور معزز نیک ( فرشتوں ) کو اس کا ساتھی بنا دیتا ہے ، یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہو گا ، تو وہ قرآن اس شخص کے حق میں حجت ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، امام أحمد ، یحیی اور نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث کے حوالے سے دوسرے راویوں نے اس کی متابعت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 788
درجۂ حدیث محدثین: اسنادہ ضعیف، لیکن دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر اسے تقویت حاصل ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 126/2»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مُعَاذُ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ قَيَّدَهُ الْقُرْآنُ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ هَوَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ من جیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : ” اے معاذ ! بیشک مؤمن کو قرآن اس کی نفسانی خواہش کے بہت سے پہلوؤں سے قید رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 789
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8317»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَالْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا وَضِيَاعًا فَعَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَعَزَا الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ بَعْضَ هَذَا إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ فِي الْكُبْرَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سب سے زیادہ فضیلت والی بات اللہ کی کتاب ہے ( اور سب سے زیادہ فضیلت والا ) اطریقہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ، امور میں سب سے برے نئے پیدا شدہ امور ہیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا ، وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا ، اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا ، تو وہ میری ذمہ داری ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، شیخ جمال الدین مزی نے اس کے کچھ حصے کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حصہ ” سنن کبری “ میں ہو گا ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہاشمی ہے ، ان کا ذکر ابن عدی نے کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 9418»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ ، مَنِ اتَّبَعَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ تَرَكَهُ أَوْ أَعْرَضَ عَنْهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - زُخَّ فِي قَفَاهُ إِلَى النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک یہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے کہ اس کی شفاعت قبول ہو گی ، جو شخص اس کی پیروی کرے گا ، یہ اسے جنت تک لے جائے گا ، اور جو شخص اسے چھوڑ دے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو شخص اس سے منہ موڑے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) تو اُسے گدی کے بل جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موقوف علی ابن مسعود۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 121»
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بِنَحْوِهِ . ¤ وَرِجَالُ حَدِيثِ جَابِرٍ الْمَرْفُوعِ ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ أَثَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ الْمُعَلَّى الْكِنْدِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ایک اور سند کے حوالے سے اس کی مانند روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول مرفوع حدیث کے رجال ثقہ ہیں ، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ” اثر “ کے رجال میں ایک راوی معلیٰ کندی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ قَوْمٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَازَعُونَ فِي الْقُرْآنِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مُتَغَيِّرًا وَجْهُهُ ، فَقَالَ : " يَا قَوْمُ ، بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ( تو غصے کی شدت کی وجہ سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اسی وجہ سے دوسری امتیں ہلاکت کا شکار ہوئی تھیں ، بیشک قرآن کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے ، تو تم اس کے ایک حصے کے ذریعے کسی دوسرے حصے کی تکذیب نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہے کہ جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف