حدیث نمبر: 778
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ ، فَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ - قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَجَوَامِعَهُ ، وَعَلِمْتُ خَزَنَةَ النَّارِ وَحَمَلَةَ الْعَرْشِ ، وَتُجُوِّزُ بِي ، وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے آپ الوداع کہنے لگے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں امّی نبی ہوں “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا : ) “” “” میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، مجھے واضح اور جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں ، مجھے جہنم کے نگران فرشتوں اور عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کا علم ہے ، اور مجھے سہولت دی گئی ، مجھے عافیت عطا کی گئی اور میری اُمت کو عافیت عطا کی گئی ، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو اور جب میں رخصت ہو جاؤں گا ، تو تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کرنا لازم ہے ، تم اس کے حلال کو حلال قرار دینا اور اس کے حرام کو حرام قرار دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المستد 183»