حدیث نمبر: 782
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ ، وَأَحِلُّو حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَاقْتَدُوا بِهِ وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ ، وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي ; كَيْمَا يُخْبِرُونَكُمْ ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ ، لِيَشْفِيَكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ ; فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ ، وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ ، وَلِكُلِّ آيَةٍ مِنْهُ نُورٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، أَمَا إِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ ، وَأُعْطِيتُ طه وَالطَّوْرَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى ، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَأُعْطِيتُ الْمُفَصَّلَ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَيْضًا : " فَمَا اشْتَبَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَاسْأَلُوا عَنْهُ أَهْلَ الْعِلْمِ يُخْبِرُوكُمْ " . ¤ وَلَهُ إِسْنَادَانِ : فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ ، وَفِي الْآخَرِ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَضَعَّفُهُ الْبَاقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن پر عمل کرو ! اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام قرار دو ، اس کی پیروی کرو ، اس کی کسی چیز کا انکار نہ کرو ، جو چیز تمہارے سامنے مشتبہ ہو ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور میرے بعد اولی الامر کی طرف لوٹا دو ، تاکہ وہ تمہیں اس حوالے سے خبر دیدیں ، تم لوگ تورات ، انجیل ، زبور اور انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے جو کچھ دیا گیا ، اُس پر ایمان رکھو ! قرآن اور اُس میں جو بیان موجود ہے ، وہ تمہیں شفا دے ، کیونکہ یہ ( قرآن ) شفاعت کرنے والا ہے ، جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور بحث کرنے والا ہے جس کی تصدیق کی جائے گی ، اس کی ہر ایک آیت میں قیامت تک کے لیے نور موجود ہے ” ذکر “ میں سے سورہ بقرہ مجھے عطا کی گئی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ” الواح “ میں سے سورہ طہٰ اور سورہ طور مجھے عطا کی گئی ہیں ، سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات ، عرش کے نیچے موجود خزانے سے مجھے عطا کی گئی ہیں ، اور مجھے اضافی طور پر ” مفصل “ عطا کی گئی ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُن کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے حوالے سے جو شبہ تمہیں لاحق ہو ، اُس کے بارے میں تم اہل علم سے سوال کرو ، وہ تمہیں بتا دیں گے ۔ “
اس روایت کی دو اسناد ہیں ، جن میں سے ایک میں عبداللہ بن ابوحمید نامی راوی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے اور دوسری میں عمران القطان نامی راوی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، جبکہ باقی حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف