حدیث نمبر: 790
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَالْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا وَضِيَاعًا فَعَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَعَزَا الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ بَعْضَ هَذَا إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ فِي الْكُبْرَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سب سے زیادہ فضیلت والی بات اللہ کی کتاب ہے ( اور سب سے زیادہ فضیلت والا ) اطریقہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ، امور میں سب سے برے نئے پیدا شدہ امور ہیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا ، وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا ، اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا ، تو وہ میری ذمہ داری ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، شیخ جمال الدین مزی نے اس کے کچھ حصے کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حصہ ” سنن کبری “ میں ہو گا ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہاشمی ہے ، ان کا ذکر ابن عدی نے کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 9418»