حدیث نمبر: 787
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سُئِلَتِ الْيَهُودُ عَنْ مُوسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا ، وَسُئِلَتِ النَّصَارَى عَنْ عِيسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا بِهِ ، وَإِنَّهُ سَتَفْشُو عَنِّي أَحَادِيثُ ، فَمَا أَتَاكُمْ مِنْ حَدِيثِي فَاقْرَءُوا كِتَابَ اللَّهِ فَاعْتَبِرُوهُ ، فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ ، وَمَا لَمْ يُوَافِقْ كِتَابَ اللَّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو حَاضِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہودیوں سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے اُن کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی ، یہاں تک کہ اُنہوں ( یعنی یہودیوں ) نے کفر کیا ، عیسائیوں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے ان کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی ، یہاں تک کہ انہوں ( یعنی عیسائیوں ) نے کفر کر دیا ، عنقریب میرے حوالے سے احادیث پھیل جائیں گی ، تمہارے پاس میری جو بھی حدیث آئے ، تو تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کرو ! اور اُس سے موازنہ کرو ، جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق ہو گی ، وہ میں نے کہی ہو گی ، اور جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق نہیں ہو گی ، وہ میں نے نہیں کہی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحاضر عبدالملک بن عبدربہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13224»