مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَمَلِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ . باب: کتاب و سنت پر عمل کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ أَذَلَّ اللَّهُ رَقَبَتَهُ مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، زَادَ مُسَدِّدٌ : " وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ : كِتَابُ اللَّهِ - تَعَالَى - وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَزَعَمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ رَجُلُ صِدْقٍ . قُلْتُ : وَمَنْ أَبُو مِحْصِنٍ مَعَ هَؤُلَاءِ ؟ !سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص زمین میں اللہ کے مقرر کردہ سلطان کی طرف چل کر جاتا ہے ، تاکہ اُسے ذلت کا شکار کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ذلت کا شکار کر دیتا ہے اور جو کچھ اُس کے لیے آخرت میں ( عذاب ) تیار کیا گیا ہے ، وہ اس کے علاوہ ہے ۔ “ مسدد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” زمین میں اللہ تعالیٰ کے سلطان سے مراد ، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ایک صاحب جن کا نام ابومحصن ہے ، ان کا یہ کہنا ہے : وہ ( یعنی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ) سچے آدمی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان حضرات ( یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد وغیرہ ) کے مقابلے میں ابومحصن نامی شخص کون ہے ؟