کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس سے متعلق دوسرا باب جو کتاب و سنت کی پیروی کرنے اور حرام کے مقابلے میں حلال کی معرفت حاصل کرنے کے بارے میں ہے
حدیث نمبر: 794
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ عَافِيَتَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيَنْسَى شَيْئًا " ثُمَّ تَلَا " ( وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ) " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال قرار دیا ہے ، وہ حلال ہے اور جسے حرام قرار دیا ہے ، وہ حرام ہے ، اور جس کے حوالے سے وہ خاموش رہا ہے ، تو یہ معافی ہے ، تو تم اللہ تعالیٰ سے اُس کی عطا کردہ عافیت کو قبول کرو ! بے شک اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولتا نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 794
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 123»
حدیث نمبر: 795
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تُكَلَّفُوهَا ، رَحْمَةً لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَنُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض قرار دی ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں ، تم ان سے تجاوز نہ کرو اور اس نے کئی چیزوں کے حوالے سے ، بھولے بغیر خاموشی اختیار کی ہے ، تو تم اس کے پابند نہیں ہو ، اس نے تمہارے لیے رحمت کے طور پر ایسا کیا ہے ، تو تم اسے قبول کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، وہ متروک ہے اور اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 795
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8938 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 122/2 123»
حدیث نمبر: 796
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا ، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ، وَكَأَنَّ بَعْضَ الرُّوَاةِ ظَنَّ أَنَّ هَذَا مَعْنًى وَسَكَتَ ، فَرَوَاهَا كَذَلِكَ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرض مقرر کیے ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ چیزوں سے منع کیا ہے ، تو تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو ، اس نے کچھ حدود متعین کی ہیں ، تو تم ان سے تجاوز نہ کرو ، اور اس نے بھولے بغیر کچھ چیزوں کے حوالے سے غفلت ( ظاہر ) کی ہے ، تو تم اُن کے بارے میں بحث ( یا تفتیش ) نہ کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس روایت میں یہ اسی طرح ( یعنی غفلت کے اظہار کے الفاظ کا ذکر ) ہے ، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی راوی نے یہ گمان کیا کہ ” اُس نے خاموشی اختیار کی“ کا مطلب یہی بنتا ہے ، تو اس نے یہ لفظ اسی طرح ( یعنی روایت بالمعنی کے طور پر ) روایت کر دیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 222 ، 221/22»
حدیث نمبر: 797
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُمْسِكُوا عَنِّي شَيْئًا ; فَإِنِّي لَا أُحِلُّ إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ، وَلَا أُحَرِّمُ إِلَّا مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ . قُلْتُ : وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے حوالے سے کسی بات کو نہ تھامو ! بے شک میں صرف اسی چیز کو حلال قرار دیتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہو ، اور میں صرف اسی چیز کو حرام قرار دیتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یحیی بن سعید کے حوالے سے اس روایت کو صرف علی بن عاصم نے نقل کیا ہے ، صالح بن حسن بن محمد زعفرانی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5741»
حدیث نمبر: 798
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ فَرَائِضَ ، وَسَنَّ سُنَنًا ، وَحَدَّ حُدُودًا ، وَأَحَلَّ حَلَالًا ، وَحَرَّمَ حَرَامًا ، وَشَرَعَ الدِّينَ فَجَعَلَهُ سَهْلًا سَمْحًا وَاسِعًا وَلَمْ يَجْعَلْهُ ضَيِّقًا ، أَلَا إِنَّهُ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّةَ اللَّهِ طَلَبَهُ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي خَاصَمْتُهُ ، وَمَنْ خَاصَمْتُهُ فَلَجْتُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي لَمْ يَنَلْ شَفَاعَتِي ، وَلَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الْقَتْلِ إِلَّا ثَلَاثَةً : مُرْتَدٌّ بَعْدَ إِيمَانٍ ، أَوْ زَانٍ بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ قَاتِلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِقَتْلِهِ ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے ، خبردار ! بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں ، کچھ سنن مقرر کی ہیں ، کچھ حدود متعین کی ہیں ، اُس نے کچھ چیزوں کو حلال قرار دیا ہے اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اُس نے دین کو مشروع قرار دیا ہے اور اسے سہل ، نرم اور وسیع ( یعنی زیادہ گنجائش والا ) بنایا ہے اس نے اسے تنگ نہیں بنایا ہے ، خبردار ! اس شخص کا ایمان نہیں جس کی امانت نہ ہو ، اور اُس شخص کا دین نہیں ، جس کا عہد نہ ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ، اور جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، میں اُس کا مقابلہ فریق بنوں گا اور جس شخص کا مقابل فریق میں ہوؤں گا میں اسے مغلوب کر دوں گا ، جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی اور وہ حوض ( کوثر ) پر نہیں آئے گا ، خبردار ! بے شک اللہ تعالیٰ نے کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ، البتہ تین افراد کا معاملہ مختلف ہے ، ایمان کے بعد مرتد ہو جانا ، محصن ہونے کے باوجود زنا کرنے والا شخص اور کسی کو قتل کرنے والا شخص ، کہ اُس قتل کے بدلے میں ، اُسے قتل کر دیا جائے گا ، خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے جس کا لقب “” “” بحنش “” “” ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11552 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 2458»
حدیث نمبر: 799
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السُّنَّةُ سُنَّتَانِ : سُنَّةٌ فِي فَرِيضَةٍ ، وَسُنَّةٌ فِي غَيْرِ فَرِيضَةٍ ، السُّنَّةُ الَّتِي فِي الْفَرِيضَةِ أَصْلُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، أَخْذُهَا هُدًى ، وَتَرْكُهَا ضَلَالَةٌ ، وَالسُّنَّةُ الَّتِي لَيْسَ أَصْلُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْأَخْذُ بِهَا فَضِيلَةٌ ، وَتَرْكُهَا لَيْسَ بِخَطِيئَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِلَّا عِيسَى بْنُ وَاقَدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ . وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سنت دو قسم کی ہے ، ایک وہ سنت ہے ، جس کا تعلق فرض سے ہو ، اور ایک وہ سنت ہے جس کا تعلق فرض کے علاوہ سے ہو ، وہ سنت جس کا تعلق فرض سے ہو ، اس کی اصل اللہ کی کتاب میں ہو گی ، اس کو اختیار کرنا ہدایت ہے اور اسے ترک کرنا گمراہی ہے ، اور وہ سنت ، جس کی اصل اللہ کی کتاب میں نہ ہو ، اس کو اختیار کرنا فضیلت ( یعنی مستحب ) ہے اور اُسے ترک کرنا گناہ نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابوسلمہ کے حوالے سے اس روایت کو صرف عیسیٰ بن واقد نے نقل کیا ہے ، عبداللہ بن رومی نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4011»
حدیث نمبر: 800
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُتَمَسِّكُ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْعَدَوِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت میں فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے کو شہید کا اجر ملے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن صالح عدوی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 800
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5414»
حدیث نمبر: 801
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ : كِتَابٌ نَاطِقٌ ، وَسُنَّةٌ مَاضِيَةٌ ، وَلَا أَدْرِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُصَيْنٌ غَيْرَ مَنْسُوبٍ ، رَوَاهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَرَوَى عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : علم تین قسم کا ہے ، بولنے والی کتاب ، جاری شدہ سنت اور یہ کہنا : کہ میں نہیں جانتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصین ہے ، جس کا اسم منسوب ذکر نہیں ہوا ہے ، اس نے یہ روایت امام مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جبکہ اُس سے یہ روایت ابراہیم بن منذر نے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف؛ اس کی سند میں حصین نامی راوی غیر معروف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1001»
حدیث نمبر: 802
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ لَا يَكُونُ فِيهِ شَيْءٌ أَعَزَّ مِنْ ثَلَاثٍ : دِرْهَمٌ حَلَالٌ ، أَوْ أَخٌ يُسْتَأْنَسُ بِهِ ، أَوْ سُنَّةٌ يُعْمَلُ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَقَالَ الْحَاكِمُ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں تین چیزوں سے زیادہ قیمتی اور کوئی چیز نہیں ہو گی ، حلال درہم ، ایسا بھائی جس سے انسیت محسوس ہو اور ایسی سنت جس پر عمل کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، حاکم کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 88»
حدیث نمبر: 803
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّنَنَ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّبِعُونَا ، فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا تَضِلُّوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن نازل ہوا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سنتیں مقرر کی ہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : تم ہماری پیروی کرو ! اللہ کی قسم ! اگر تم ایسا نہیں کرو گے ، تو تم گمراہ ہو جاؤ گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسند 445/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 158»
حدیث نمبر: 804
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اقْتِصَادٌ فِي سُنَّةٍ خَيْرٌ مِنِ اجْتِهَادٍ فِي بِدْعَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : لَيْسَ بِثِقَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت کے بارے میں میانہ روی اختیار کرنا ، بدعت کے بارے میں بھرپور کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بشیر کندی ہے ، یحیی فرماتے ہیں : یہ ثقہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں محمد بن بشیر الکندی غیر ثقہ راوی ہے۔