مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَمَلِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ . باب: کتاب و سنت پر عمل کرنا
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الْقُرْآنَ جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : " فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرْفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَهْلِكُوا وَلَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جحفہ کے مقام پر موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، بے شک قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم یہ خوشخبری حاصل کرو ! اس قرآن کی ایک طرف ، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک طرف تمہارے ہاتھ میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ! اس کے بعد تم کبھی ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے اور کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔