حدیث نمبر: 793
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ قَوْمٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَازَعُونَ فِي الْقُرْآنِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مُتَغَيِّرًا وَجْهُهُ ، فَقَالَ : " يَا قَوْمُ ، بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ( تو غصے کی شدت کی وجہ سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اسی وجہ سے دوسری امتیں ہلاکت کا شکار ہوئی تھیں ، بیشک قرآن کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے ، تو تم اس کے ایک حصے کے ذریعے کسی دوسرے حصے کی تکذیب نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہے کہ جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف