کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہم سے ویسے ہی بیعت لی جیسے عورتوں سے لیتے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، اپنی اولادوں کا قتل اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ جس نے اس بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے جرم کیا اور جرم کی سزا مل گئی تو یہ اس کا کفارہ ہے اور جس مسلمان کے گناہ پر اللہ نے پردہ ڈالا، اب اللہ چاہے تو سزا دے یا معاف کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ هِيَ فِي النَّاسِ كُفْرٌ: نِيَاحَةٌ عَلَى الْمَيِّتِ، وَطَعْنٌ فِي النَّسَبِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں دو عادات کفریہ ہیں: ۱۔ میت پر نوحہ کرنا، ۲۔ نسب میں طعن کرنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ يَقُولُ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ: " عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرَّجَ "، ⦗٤١٦⦘ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں دیہاتیوں کے پاس آیا، وہ نبی ﷺ سے سوال کر رہے تھے کہ کیا اس طرح ہمارے اوپر گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے اپنے بندوں سے حرج کو اٹھا دیا ہے لیکن جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو پامال کیا یہ گناہ باقی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سب سے بہتر چیز کیا ہے، جو بندے کو دی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِيُ يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ ". وَفِي رِوَايَةِ الطَّنَافِسِيِّ: " تَجِدُ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ". قَالَ الْأَعْمَشُ: الَّذِيُ يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپ قیامت والے دن بدترین لوگوں میں سے ان کو پائیں گے جو دو رخ والے ہوتے ہیں“۔
(ب) طنافسی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ”لوگوں میں سے بدترین لوگ دو رخ والے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چہرے سے آتے ہیں اور دوسروں کے پاس دوسرے چہرے سے آتے ہیں“۔
(ب) طنافسی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ”لوگوں میں سے بدترین لوگ دو رخ والے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چہرے سے آتے ہیں اور دوسروں کے پاس دوسرے چہرے سے آتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَقَبْلَهُ: " مِنْ شِرَارِ خَلْقِ اللهِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابومعاویہ رحمہ اللہ، اعمش رحمہ اللہ سے اپنی سند سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں اور اس سے پہلے ہے کہ ”اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ دو رخ والے ہیں کہ وہ کبھی اس چہرے کے ساتھ آتے ہیں تو کبھی دوسرے چہرے کے ساتھ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی دو رخ والے آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ امین ہو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو انسان دنیا میں دو رخا ہوا، قیامت کے دن اس کی دو زبانیں آگ کی ہوں گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعِضَةُ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ "، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا " ⦗٤١٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ «الْعَضْهُ» ”بہتان و چغلی“ کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان کی جاتی ہے“ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ سچ بولنے کی وجہ سے اللہ کے ہاں سچوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انسان جھوٹ بولنے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانٍ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْعِضَةُ "؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم «الْعَضْهَ» (عضہ) کو جانتے ہو؟“ وہ کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بعض لوگوں کی بات کو بعض لوگوں تک اس انداز سے پہنچایا جائے کہ دونوں کے درمیان لڑائی برپا ہو جائے۔“ [ضعیف]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا: هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ہمام بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں، حذیفہ کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔“ [صحیح]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدُ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِحَدِيثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ ". لَفْظَ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھے تو یہ بات امانت ہوتی ہے۔“ [حسن]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجٍ حَرَامٍ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجلسیں امانت ہوتی ہیں، لیکن تین قسم کی مجلسیں امانت نہیں ہوتیں: 1۔ حرام خون بہانے کے متعلق۔ 2۔ زنا کے بارے میں۔ 3۔ ناجائز طریقے سے کسی کا مال ہڑپ کرنے کے بارے میں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗٤١٨⦘ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ "؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اپنے بھائی کا اس انداز سے تذکرہ کرنا جس کو وہ ناپسند کرے۔“ کہا گیا: ”آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ چیز جو میں کہہ رہا ہوں، میرے بھائی میں موجود بھی ہو؟“ فرمایا: ”اگر وہ چیز اس میں موجود ہے تو آپ نے اس کی غیبت کی۔ اگر موجود نہیں تو آپ نے اس پر تہمت لگائی۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ اتَّبَعَ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَفَضَحَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے وہ گروہ جو اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتے! ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور نہ ہی ان کے عیب تلاش کیا کرو، کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیب تلاش کر کے اس کو اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کر دے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْخُسْرُوجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَرَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: حَكَيْتُ إِنْسَانًا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انسان کی حکایت بیان کی تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ میرے سامنے کسی کی حکایت بیان کی جائے اور میرے لیے یہ یہ ہو“ یعنی میرے دل کے اندر کسی کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو۔