السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21165
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْخُسْرُوجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَرَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: حَكَيْتُ إِنْسَانًا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انسان کی حکایت بیان کی تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ میرے سامنے کسی کی حکایت بیان کی جائے اور میرے لیے یہ یہ ہو“ یعنی میرے دل کے اندر کسی کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو۔