السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21151
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہم سے ویسے ہی بیعت لی جیسے عورتوں سے لیتے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، اپنی اولادوں کا قتل اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ جس نے اس بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے جرم کیا اور جرم کی سزا مل گئی تو یہ اس کا کفارہ ہے اور جس مسلمان کے گناہ پر اللہ نے پردہ ڈالا، اب اللہ چاہے تو سزا دے یا معاف کر دے۔“