السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21159
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانٍ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْعِضَةُ "؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم «الْعَضْهَ» (عضہ) کو جانتے ہو؟“ وہ کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بعض لوگوں کی بات کو بعض لوگوں تک اس انداز سے پہنچایا جائے کہ دونوں کے درمیان لڑائی برپا ہو جائے۔“ [ضعیف]