السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21158
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعِضَةُ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ "، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا " ⦗٤١٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ «الْعَضْهُ» ”بہتان و چغلی“ کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان کی جاتی ہے“ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ سچ بولنے کی وجہ سے اللہ کے ہاں سچوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انسان جھوٹ بولنے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“