السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21153
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ يَقُولُ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ: " عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرَّجَ "، ⦗٤١٦⦘ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ ".حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں دیہاتیوں کے پاس آیا، وہ نبی ﷺ سے سوال کر رہے تھے کہ کیا اس طرح ہمارے اوپر گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے اپنے بندوں سے حرج کو اٹھا دیا ہے لیکن جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو پامال کیا یہ گناہ باقی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سب سے بہتر چیز کیا ہے، جو بندے کو دی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“