السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21162
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجٍ حَرَامٍ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجلسیں امانت ہوتی ہیں، لیکن تین قسم کی مجلسیں امانت نہیں ہوتیں: 1۔ حرام خون بہانے کے متعلق۔ 2۔ زنا کے بارے میں۔ 3۔ ناجائز طریقے سے کسی کا مال ہڑپ کرنے کے بارے میں۔“