السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21164
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ اتَّبَعَ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَفَضَحَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے وہ گروہ جو اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتے! ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور نہ ہی ان کے عیب تلاش کیا کرو، کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیب تلاش کر کے اس کو اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کر دے گا۔“