السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21163
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗٤١٨⦘ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ "؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اپنے بھائی کا اس انداز سے تذکرہ کرنا جس کو وہ ناپسند کرے۔“ کہا گیا: ”آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ چیز جو میں کہہ رہا ہوں، میرے بھائی میں موجود بھی ہو؟“ فرمایا: ”اگر وہ چیز اس میں موجود ہے تو آپ نے اس کی غیبت کی۔ اگر موجود نہیں تو آپ نے اس پر تہمت لگائی۔“