السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من عضه غيره بحد أو نفي نسب ردت شهادته، وكذلك من أكثر النميمة أو الغيبة باب: جس نے کسی دوسرے پر حد والی تہمت لگائی یا اس کے نسب کی نفی کی تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، اور اسی طرح اس شخص کی بھی جو کثرت سے چغلی یا غیبت کرے۔
حدیث نمبر: 21155
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَقَبْلَهُ: " مِنْ شِرَارِ خَلْقِ اللهِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابومعاویہ رحمہ اللہ، اعمش رحمہ اللہ سے اپنی سند سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں اور اس سے پہلے ہے کہ ”اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ دو رخ والے ہیں کہ وہ کبھی اس چہرے کے ساتھ آتے ہیں تو کبھی دوسرے چہرے کے ساتھ۔“