❮
❯
حدیث نمبر: 17385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " قَدْ جَاءَتْ فِي الْأَشْرِبَةِ آثَارٌ كَثِيرَةٌ بِأَسْمَاءَ مُخْتَلِفَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَكُلٌّ لَهُ تَفْسِيرٌ: فَأَوَّلُهَا الْخَمْرُ: وَهِيَ مَا غَلَى مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، فَهَذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِي تَحْرِيمِهِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِي غَيْرِهِ وَمِنْهَا السَّكَرُ: وَهُوَ نَقِيعُ التَّمْرِ الَّذِي لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: السَّكَرُ خَمْرٌ ⦗٥١٣⦘ وَمِنْهَا الْبِتْعُ: وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَمِنْهَا الْجِعَةُ: وَهُوَ نَبِيذُ الشَّعِيرِ وَمِنْهَا الْمِزْرُ: وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشروبات کے بارے میں نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سی روایات مختلف ناموں کے ساتھ آئی ہیں اور ہر ایک کی وضاحت ہے: ان میں پہلی «الْخَمْرُ» ہے، یہ انگور کا وہ رس ہے جس میں جوش آ جائے، اس کی حرمت میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے علاوہ میں ہے۔ ان میں سے ایک «السَّكَرُ» ہے جو کھجور کو بھگو کر بنائی جاتی ہے اور اسے آگ نہیں چھوتی، اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: سکر شراب ہے۔ ان میں سے «الْبِتْعُ» ہے یعنی شہد کی شراب، ان میں سے «الْجِعَةُ» ہے، یہ جو کی شراب ہے، اور ان میں سے «الْمِزْرُ» ہے جو مکئی کے دانے سے بنتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17385
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»