السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 17386
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أكيلٍ مُؤَذِّنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَسَّرَ هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ الْأَشْرِبَةَ، وَزَادَ: " وَالْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ، وَالسَّكَرُ مِنَ التَّمْرِ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنْهَا السُّكْرُكَةُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ التَّفْسِيرُ فَقَالَ: إِنَّهُ مِنَ الذُّرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ان چار مشروبات کی وضاحت کی اور یہ اضافہ کیا: ”اور خمر انگور سے ہے اور سکر کھجور سے۔“ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے «السُّكْرُكَةُ» بھی ہے، اور اس کی وضاحت اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ مکئی سے بنتی ہے۔