حدیث نمبر: 17388
وَيُرْوَى عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَمَا كَانَتْ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا"، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَإِنْ كَانَ مَعَ الْبُسْرِ تَمْرٌ فَهُوَ الَّذِي يُسَمَّى الْخَلِيطَيْنِ، وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَ زَبِيبًا وَتَمْرًا فَهُوَ مِثْلُهُ وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ: الْمَنْصَفُ، وَهُوَ أَنْ يُطْبَخَ عَصِيرُ الْعِنَبِ قَبْلَ أَنْ يَغْلِيَ حَتَّى يَذْهَبَ نِصْفُهُ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُسْكِرُ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ، وَإِنْ طُبِخَ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ فَهُوَ الطِّلَاءُ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ شُبِّهُ بِطِلَاءِ الْإِبِلِ فِي ثِخَنِهِ وَسَوَادِهِ، وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَجْعَلُ الطِّلَاءَ الْخَمْرَ بِعَيْنِهَا، يُرْوَى أَنَّ عَبِيدَ بْنَ الْأَبْرَصِ قَالَ فِي مَثَلٍ لَهُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام «خَلِيْطَيْنِ» ”خلیطین“ ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب «مُنَصَّف» ”منصف“ بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ «طِلَاء» ”طلاء“ ہوتا ہے، اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب «طِلَاءُ الْخَمْرِ» ”طلاء خمر“ کو بعینہٖ ایسے ہی بناتے ہیں۔ عبید بن اصرم نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے: یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو «خَمْر» ”خمر“ کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں داخل ہیں: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17388
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»