السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ، فَقَالَ: " سَبَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ وَإِنَّا نَشْرَبُهُ، قَالَ: " سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ ثُمَّ نَطْبُخُهُ حَتَّى يَكُونَ حَلَالًا طَيِّبًا، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ اشْرَبِ الْحَلَالَ الطَّيِّبَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.ابو الجویریہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے: جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے، ہم اسے پیتے ہیں۔ فرمایا: ”محمد ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے، اور جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم انگور لے کر انہیں نچوڑتے ہیں، پھر اسے پکاتے ہیں یہاں تک کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! حلال اور پاکیزہ پیو، کیونکہ حلال اور پاکیزہ کے بعد صرف حرام اور خبیث ہی ہے۔