❮
❯
حدیث نمبر: 17379
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ، فَقَالَ: " سَبَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ وَإِنَّا نَشْرَبُهُ، قَالَ: " سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ ثُمَّ نَطْبُخُهُ حَتَّى يَكُونَ حَلَالًا طَيِّبًا، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ اشْرَبِ الْحَلَالَ الطَّيِّبَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو الجویریہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے: جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے، ہم اسے پیتے ہیں۔ فرمایا: ”محمد ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے، اور جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم انگور لے کر انہیں نچوڑتے ہیں، پھر اسے پکاتے ہیں یہاں تک کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! حلال اور پاکیزہ پیو، کیونکہ حلال اور پاکیزہ کے بعد صرف حرام اور خبیث ہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»