السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 17384
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ الطِّلَاءَ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ، فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں نے فلاں سے شراب کی بو محسوس کی ہے، اگر اس نے طلاء پی ہے اور اس میں نشہ تھا تو میں اسے حد لگاؤں گا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پوری حد لگائی۔