السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 17378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ، قَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْبَاذَقَ، مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ لَا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، قَالَ: لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.حافظ ثناء اللہ
ابو الجویریہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بازق کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ محمد ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے: ”جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ فرماتے ہیں: پاکیزہ حلال مشروب (پیو)، نہ کہ حرام اور خبیث۔
محمد بن کثیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: پاکیزہ حلال مشروب، فرمایا: پاکیزہ حلال کے بعد صرف حرام اور خبیث ہی ہے۔