السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 17387
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثنا حَجَّاجٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَخْطُبُ فَقَالَ: " خَمْرُ الْمَدِينَةِ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَخَمْرُ أَهْلِ فَارِسَ مِنَ الْعِنَبِ، وَخَمْرُ أَهْلِ الْيَمَنِ الْبِتْعُ، وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ، وَخَمْرُ الْحَبَشِ السُّكْرُكَةُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ أَيْضًا الْفَضِيخُ، وَهُوَ مَا افْتُضِخَ مِنَ الْبُسْرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَيْسَ بِالْفَضِيخِ، وَلَكِنَّهُ الْفَضُوخُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن محرز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہلِ مدینہ کی شراب تر کھجور سے ہے اور اہلِ فارس انگور سے بناتے ہیں اور اہلِ یمن شہد سے اور اہلِ حبشہ مکئی کے دانے سے اور ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْفَضِيخُ» ”فضیخ“ بھی ایک شراب ہے جو تر کھجور سے بنتی ہے لیکن اسے آگ نہیں چھوتی۔