کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو ایک مرتبہ اپنی بیوی کے حمل یا اس کے بچے کا اقرار کر لے تو اس کے بعد اسے اس (بچے) کی نفی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15367
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، نا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، نا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مَخْرَمَةُ بْنُ ⦗٦٧٦⦘ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، يَزْعُمُ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ " قَضَى فِي رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَ امْرَأَتِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ثُمَّ اعْتَرَفَ بِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا حَتَّى إِذَا وُلِدَ أَنْكَرَهُ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً لِفِرْيَتِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ أَلْحَقَ بِهِ وَلَدَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن ذوئب، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا جس نے اپنی بیوی کے حمل کا انکار کیا، پھر اعتراف کر لیا، جب بچہ پیدا ہوا تو (دوبارہ) انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تہمت کی حد اسّی کوڑے لگائے اور پھر بچہ بھی خاوند کو دے دیا۔
حدیث نمبر: 15368
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِوَلَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْفِيَهُ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قاضی شریح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی آنکھ جھپکنے کے برابر اپنے بچے کا اقرار کر لے تو پھر اس کی نفی کرنا مناسب نہیں ہے۔