کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا، اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْظُرُ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضُهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " ⦗٦٧٧⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھوں تو اس کو قبضے میں لے لینا؛ کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے“، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا بھائی، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا“۔ آپ ﷺ نے عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت بھی دیکھی، پھر بھی آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور اے سودہ رضی اللہ عنہا! تو اس سے پردہ کر۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْأَسْفَاطِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلِيَّ فِيهِ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ: أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلِيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ "، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " احْتَجِبِي مِنْهُ " لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَتِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ سے وعدہ لیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا مجھ سے ہے اس کو اپنے ساتھ ملا لینا۔ فتحِ مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میرے بھائی کا بیٹا ہے اس کے بارے میں اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میرا بھائی ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، دونوں جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بھائی نے مجھ سے اس کے بارے میں عہد لیا تھا، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے“، نیز فرمایا: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں“، پھر سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”آپ اس سے پردہ کریں“ عتبہ کے ساتھ مشابہت کی بنا پر، تو اس نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو وفات تک نہیں دیکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ لَمَّا وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَارِيَةَ جَارِيَتِهِ كَادَ يَقَعُ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا إِبْرَاهِيمَ " وَفِي هَذَا إِنْ ثَبَتَ دَلَالَةٌ عَلَى ثُبُوتِ النَّسَبِ لِفِرَاشِ الْأَمَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی لونڈی ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کا بیٹا ابراہیم پیدا ہوا تو آپ کے دل میں اس کے بارے میں شک گزرا، یہاں تک کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا إِبْرَاهِيمَ» ”اے ابراہیم کے باپ! آپ پر سلامتی ہو“، اگر یہ روایت ثابت ہو تو اس میں لونڈی کے فراش سے نسب کے ثبوت پر دلالت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَطُوفُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَهُنَّ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا وَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا " قَالَ: وَأنا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِرْسَالِ الْوَلَائِدِ يُوطَيْنَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے صحبت کرتے ہیں اور عزل کرتے ہیں؟ پھر کوئی لونڈی آتی ہے تو اس کا آقا اس سے جماع کا اعتراف کرتا ہے تو میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، اس کے بعد عزل کرو یا چھوڑ دو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُونَهُنَّ يَخْرُجْنَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِكُوهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت ابی عبید رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے تعلقات قائم کرتے ہیں، پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ چلی جائیں، پھر میرے پاس کوئی لونڈی آتی ہے جس کا آقا اس سے تعلقات کا اعتراف کرتا ہے، میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، تم لونڈیوں کو اس کے بعد چھوڑ دو یا روکے رکھو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَهَلْ خَالَفَكَ فِي هَذَا غَيْرُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْضُ الْمَشْرِقِيِّينَ، قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُهُمْ؟ قَالَ: كَانَتْ حُجَّتُهُمْ أَنْ قَالُوا: انْتَفَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُكَ عَلَيْهِمْ؟ يَعْنِي: جَوَابُكَ قَالَ: أَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَنْكَرَ حَمْلَ جَارِيَةٍ لَهُ أَقَرَّتْ بِالْمَكْرُوهِ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا أَنْكَرَا إِنْ كَانَا فِعْلًا وَلَدَ جَارِيَتَيْنِ عُرْفًا أَنْ لَيْسَ مِنْهُمَا فَحَلَالٌ لَهُمَا وَكَذَلِكَ لِزَوْجِ الْحُرَّةِ إِذَا عَلِمَ أَنَّهَا حَبِلَتْ مِنَ الزِّنَا أَنْ يَدْفَعَ وَلَدَهَا وَلَا يَلْحَقْ بِنَسَبِهِ مَنْ لَيْسَ مِنْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَكَلَّمَ عَلَيْهِ بِمَا يَطُولُ ذِكْرُهُ هَاهُنَا.
حافظ ثناء اللہ
ربیع کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کی مخالفت اس مسئلہ میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی کرتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، بعض مشرقی لوگ۔ میں نے پوچھا: ان کے دلائل کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے دلائل یہ ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا۔ میں نے کہا: ان کے خلاف آپ کی دلیل یعنی آپ کا جواب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: رہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو ان سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی اس لونڈی کے حمل کا انکار کیا جس نے برے کام (زنا) کا اعتراف کر لیا تھا، اور رہے سیدنا زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہم تو اگر انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے ان دو لونڈیوں کے بچوں کا انکار کیا جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ ان سے نہیں ہیں، تو یہ ان کے لیے جائز ہے۔ اسی طرح آزاد عورت کا خاوند جب یہ جان لے کہ وہ زنا سے حاملہ ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے بچے کو اپنے سے دور کرے اور جو اس سے نہیں ہے اسے اپنے نسب میں شامل نہ کرے، یہ اس کے اور اللہ عزوجل کے درمیان معاملہ ہے، اور انہوں نے اس پر ایسی گفتگو کی جس کا ذکر یہاں طویل ہو جائے گا۔