کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کی نسبت اس کے (حقیقی) باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو مَعْمَرٍ النَّضْرَوِيُّ نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، نا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ادُّعِيَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ ادَّعَى رَجُلًا بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَقَدْ حَارَ أَوْ جَارَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف جان بوجھ کر نسبت کی اس نے کفر کیا، جس نے دعویٰ کر دیا کہ وہ اس کا نہیں وہ ہم سے نہیں اور وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے، اور جس نے کسی شخص کے متعلق کفر یا اللہ کے دشمن ہونے کا دعویٰ کر دیا، حالانکہ وہ اس طرح کا نہیں ہے تو یہ دعویٰ کرنے والے پر بات لوٹ آئے گی اگرچہ وہ بھی اس طرح کا نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنا ⦗٦٦٣⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، نا مُسَدَّدٌ، نا خَالِدٌ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ادُّعِيَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کا دعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِيسَى، نا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَيَّبٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو خالد، ابو عثمان سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعویٰ کر دیا تو میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا؟ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کو اپنے کانوں سے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس نے اسلام میں کسی کا دعویٰ کر دیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“