کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس عورت کا بیان جو کسی شبہے کے تحت کسی (دوسرے) مرد کے بستر پر (اس سے ہم بستری کے نتیجے میں) بچہ جنے درآں حالیکہ وہ بچہ پہلے (شوہر) کا ہونا ممکن نہ ہو اور دوسرے کا ہونا ممکن ہو۔
حدیث نمبر: 15377
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ كَثِيرٍ النَّخَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ الْحُرِّ، تَزَوَّجَ جَارِيَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا الدَّرْدَاءُ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ أَبُوهَا فَانْطَلَقَ عُبَيْدُ اللهِ فَلَحِقَ بِمُعَاوِيَةَ فَأَطَالَ الْغَيْبَةَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَمَاتَ أَبُو الْجَارِيَةِ فَزَوَّجَهَا أَهْلُهَا مِنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَيْدَ اللهِ فَقَدِمَ فَخَاصَمَهُمْ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمَرْأَةَ وَكَانَتْ حَامِلًا مِنْ عِكْرِمَةَ فَوَضَعَهَا عَلَى يَدَيْ عَدْلٍ "، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَا أَحَقُّ بِمَالِي أَوْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحُرِّ؟ فَقَالَ: " بَلْ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ "، قَالَتْ: فَأُشْهِدُكَ أَنَّ كُلَّ مَا كَانَ لِي عَلَى عِكْرِمَةَ مِنْ شَيْءٍ مِنْ صَدَاقٍ فَهُوَ لَهُ، فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا رَدَّهَا إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحُرِّ وَأَلْحَقَ الْوَلِيدَ بِأَبِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن کثیر نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن حر نے اپنی قوم کی لونڈی سے شادی کی جس کا نام درداء تھا، اس کی شادی اس کے باپ نے کی تھی تو عبیداللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا ملے اور اپنی بیوی سے زیادہ دیر غائب رہے، لونڈی کا باپ فوت ہو گیا تو اس کے گھر والوں نے اپنے ایک شخص عکرمہ سے اس کی شادی کر دی، جب عبیداللہ کو پتا چلا تو وہ آ کر جھگڑے اور معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عورت کو واپس کر دیا اور یہ عکرمہ سے حاملہ تھی اور اس نے وضع حمل کیا تو عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی: ”میں اپنے مال کی زیادہ حق دار ہوں، یا عبیداللہ بن حر؟“ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تو اس کی زیادہ حق دار ہے“، وہ کہتی ہے: ”میں آپ کو گواہ بناتی ہوں کہ جو میرا حق مہر عکرمہ کے ذمے تھا وہ اس کا ہے“، جب اس نے وضع حمل کر دیا تو اس لونڈی کو عبیداللہ حر کی جانب ملا دیا اور بچے کو اس کے باپ کے ساتھ ملا دیا گیا۔