کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی ﷺ کے دور میں لعان کیا اور اپنے بچے کی نفی کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کے ساتھ ملا دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ؟ " قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی اور بچہ ماں کو دے دیا؟ فرماتے ہیں: ہاں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي مَالِي قَالَ: " إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ كَمَا مَضَى وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے متعلق فرمایا: ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تجھے بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا مال میرا مال۔ فرمایا: ”اگر تو سچا ہے تو مال شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا۔ اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو لعان کرنے والے تفریق کے بعد کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو لعان کرنے والے تفریق کے بعد کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَامْرَأَتِهِ وأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا وَأَنَّهَا شَهِدَتْ بَعْدَ الْتِعَانِ الزَّوْجِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا: اتَّقِي اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَسَكَتَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَا ⦗٦٧٣⦘ أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفَّى عَنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہلال بن امیہ اور ان کی بیوی کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے درمیان لعان کروایا۔ اس عورت نے خاوند کے لعان کے بعد چار گواہیاں اللہ کی قسم اٹھا کر دیں کہ وہ جھوٹا ہے، جب پانچویں گواہی کی باری آئی تو اس سے کہا گیا: اللہ سے ڈر، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ترین ہے اور یہ اللہ کے عذاب کو واجب کر دینے والی ہے۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، اس کے بعد کہنے لگی: میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی۔ اس نے پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں تفریق کروا دی۔ اور فرمایا: ”بچے کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا، لیکن بچے اور والدہ پر تہمت بھی نہ لگائی جائے۔ جس نے والدہ یا بچے پر تہمت لگائی اسے حد لگائی جائے گی۔“ اور آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ: ”خاوند کے ذمہ نہ رہائش اور نہ ہی خوراک ہے کیونکہ دونوں میں تفریق بغیر طلاق و وفات کے ہوئی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي حَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ: " فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث لعان کرنے والوں کے بارے میں ہے کہ: ”لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور بعد میں کبھی جمع نہ ہوں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا الْوَلِيدُ، وَعَمْرٌو قَالَا: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي قِصَّةِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والوں کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کیا تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق پیدا کر دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، نا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَقَيْسٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ لَا يَجْتَمِعَا أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والوں میں سنت طریقہ یہی ہے کہ ”وہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِذَا تَلَاعَنَا قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا الْحَدُّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب دو لعان کرنے والے لعان کرتے ہیں تو ان کے درمیان ابدی تفریق ہو جاتی ہے، یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ بَعْدَ اللِّعَانِ ضُرِبَ وَأُلْزِقَ بِهِ الْوَلَدُ وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا "، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
جہم بن دینار رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب لعان کے بعد انسان اپنی تکذیب کر لے تو اسے حد لگائی جائے گی، بچے کی نسبت اس کی جانب ہوگی اور یہ دونوں کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔