کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمَّا ذَكَرَ اللهُ اللِّعَانَ عَلَى الْأَزْوَاجِ مُطْلَقًا كَانَ اللِّعَانُ عَلَى كُلِّ زَوْجٍ جَازَ طَلَاقُهُ وَلَزِمَهُ الْفَرْضُ، وَكَذَلِكَ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ لَزِمَهَا الْفَرْضُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے شوہروں پر لعان کو مطلق طور پر ذکر کیا تو لعان ہر اس شوہر پر ہوگا جس کی طلاق جائز ہو اور جس پر فرائض لازم ہوں، اور اسی طرح ہر اس بیوی پر ہوگا جس پر فرائض لازم ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15293
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ قِصَّةَ اللِّعَانِ بِطُولِهَا وَفِي آخِرِهَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ "، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: فَسُمِّيَ اللِّعَانُ يَمِينًا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے لعان کا لمبا قصہ ذکر کیا، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہو چکی ہوتیں تو میں اس عورت سے نپٹتا۔“ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کا نام قسم بھی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15293
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، نا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ قِيلَ لَهُ: وَاللهِ لَيَحُدَّنَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً قَالَ: اللهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَوْثَقْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَبَنْتُ لَا وَاللهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتِ الْآيَةُ فَقَالَ: " اللهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ " فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَقَالَ لَهُ: " احْلِفْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَصَادِقٌ " تَقُولُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَعَلَيَّ لَعْنَةُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِفُوهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ " فَحَلَفَ ثُمَّ قَالَتْ أَرْبَعًا: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَعَلَيْهَا غَضَبُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِفُوهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ " ⦗٦٤٩⦘ فَتَرَدَّدَتْ وَهَمَّتْ بِالِاعْتِرَافِ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ أَدْعَجَ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ أَلِفَ الْفَخِذَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَصْفَرَ قَضِيفًا سَبِطًا فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ "، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى صِفَةِ الْبَغِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: كَانَ الرَّجُلُ الَّذِي قَذَفَهَا بِهِ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ وَكَانَتْ أُمُّهُ سَوْدَاءَ وَكَانَ شَرِيكٌ يَأْوِي إِلَى مَنْزِلِ هِلَالٍ وَيَكُونُ عِنْدَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: فَسَمَّى كَلِمَةَ اللِّعَانِ حَلِفًا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: رسول اللہ ﷺ تجھے 80 کوڑے لگائیں گے، فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت زیادہ عدل فرمائیں گے کہ وہ مجھے 80 کوڑے لگائیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھ کر یقین کیا ہے اور سن کر علیحدہ کیا ہے، اللہ کی قسم! آپ مجھے کوڑے نہ لگائیں گے، تو لعان والی آیات نازل ہوئیں، رسول اللہ ﷺ نے میاں، بیوی دونوں کو بلایا جب آیت نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال نے کہا: میں سچا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میں سچا ہوں۔ یہ چار مرتبہ قسم کھاؤ۔ اگر میں جھوٹا ہوا تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچویں قسم پر اسے روکنا، یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ اس نے قسم اٹھا کر چار مرتبہ یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اگر یہ مرد سچا ہو تو میرے اوپر اللہ کا غضب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو پانچویں قسم پر روکنا، کیونکہ یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ وہ جھجکی اور اعتراف کا ارادہ کیا، پھر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں، موٹی پیٹھ، موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، اگر یہ زرد رنگ اور سیدھے بالوں والا جنم دے تو یہ ہلال بن امیہ کا ہے۔“ تو اس نے زنا کی صفات والے بچے کو جنم دیا۔ ایوب اور محمد بن سیرین رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جس مرد پر اپنی بیوی کے بارے میں الزام لگایا وہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھائی تھا، اس کی والدہ سیاہ رنگ کی تھی اور شریک ہلال کے گھر میں رہتا تھا۔ شیخ نے لعان کو قسم قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15294
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ أَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ جُوَيْرِيَةَ. وَرُوِّينَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: يُلَاعِنُ كُلُّ زَوْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیوی پر الزام کی وجہ سے دونوں میں تفریق کروا دی، دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے قسمیں کھائیں، بعد میں آپ نے جدائی کروا دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15295
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالُوا: رَوَى عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا لِعَانَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ، الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ عِنْدَ الْحُرِّ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ عِنْدَ النَّصْرَانِيِّ " فَقُلْنَا لَهُمْ: رَوَيْتُمْ هَذَا عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ وَرَجُلٍ غَلَطَ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مُنْقَطِعٌ وَاللَّذَانِ رَوَيَا يَقُولُ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَقِفُهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَهُوَ لَا يَثْبُتُ عَنْ عَمْرٍو وَلَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا رَجُلٌ غَلِطَ قَالَ: وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَدْ رَوَى لَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْكَامًا تُوَافِقُ أَقَاوِيلَنَا وَتُخَالِفُ أَقَاوِيلَكُمْ يَرْوِيهَا عَنْهُ الثِّقَاتُ فَيُسْنِدُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَدْتُمُوهَا عَلَيْنَا وَرَدَدْتُمْ رِوَايَتَهُ وَنَسَبْتُمُوهَا إِلَى الْغَلَطِ، فَأَنْتُمْ مَحْجُوجُونَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ بِأَحَادِيثِهِ الَّتِي وَافَقْنَاهَا وَخَالَفْتُمُوهَا فِي نَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ حُكْمًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَفْتُمْ أَكْثَرَهَا فَأَنْتُمْ غَيْرُ مُنْصِفِينَ إِنِ احْتَجَجْتُمْ بِرِوَايَتِهِ ⦗٦٥٠⦘ وَهُوَ مِمَّنْ لَا نُثْبِتُ رِوَايَتَهُ ثُمَّ احْتَجَجْتُمْ مِنْهَا بِمَا لَوْ كَانَ ثَابِتًا عَنْهُ وَهُوَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ لَمْ نُثْبِتْهُ لِأَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”چار قسم کے لوگوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: (1) عیسائی اور یہودی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، (2) آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، (3) اور لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو، (4) عیسائی عورت، عیسائی مرد کے نکاح میں ہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے ان (اس سے دلیل لینے والوں) سے کہا: تم نے یہ روایت ایک مجہول شخص اور ایک غلطی کرنے والے شخص سے نقل کی ہے، اور عمرو بن شعیب کی عبداللہ بن عمرو سے روایت منقطع ہے، اور جن دو نے اسے روایت کیا ہے ان میں سے ایک اسے نبی ﷺ سے بیان کرتا ہے اور دوسرا اسے عبداللہ بن عمرو پر موقوف کرتا ہے، لہٰذا یہ نہ عمرو سے ثابت ہے اور نہ عبداللہ بن عمرو سے، اور اسے نبی ﷺ تک صرف ایک غلطی کرنے والا شخص پہنچاتا ہے۔
انہوں نے فرمایا: عمرو بن شعیب نے ہمیں نبی ﷺ سے ایسے احکام روایت کیے ہیں جو ہمارے اقوال کے موافق اور تمہارے اقوال کے مخالف ہیں، انہیں ثقہ راوی ان سے روایت کرتے ہیں اور نبی ﷺ تک مسند بیان کرتے ہیں، تو تم نے انہیں ہم پر رد کر دیا، ان کی روایت کو رد کیا اور اسے غلطی کی طرف منسوب کیا۔ پس اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے تو نبی ﷺ سے مروی تقریباً تیس احکام میں، جن میں ہم نے ان کی موافقت کی اور تم نے مخالفت کی، ان کی احادیث تمہارے خلاف حجت ہیں، تم نے ان میں سے اکثر کی مخالفت کی ہے۔ اور اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی روایت ثابت نہیں تو تم انصاف نہیں کر رہے کہ ان کی روایت سے دلیل لیتے ہو، پھر اس میں سے ایسی چیز سے دلیل لیتے ہو جسے، اگر وہ ان سے ثابت بھی ہو اور وہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے، ہم ثابت نہ مانتے، کیونکہ یہ ان کے اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15296
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قُتَيْبَةَ الرَّمْلِيُّ، نا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُمْ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ جِدًّا وَتَابَعَهُ ابْنُ بَزِيعٍ الرَّمْلِيُّ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار قسم کی عورتوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 عیسائی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، 2 یہودیہ مسلم کے نکاح میں ہو، 3 لونڈی آزاد شخص کے نکاح میں ہو، 4 آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو۔“
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: یہ عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ حدیث میں سخت ضعیف ہے، اور ابن بزیع رملی نے عطاء خراسانی سے اس کی متابعت کی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15297
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، نا أَبُو مُوسَى، نا أَبُو الْوَلِيدِ، نا يَزِيدُ بْنُ بَزِيعٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ أَيْضًا غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
عطاء خراسانی بھی قوی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15298
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو الْفَضْلِ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ لِعَانٌ، لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْأَمَةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْعَبْدِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ لِعَانٌ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْوَقَّاصِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار کے درمیان لعان نہیں ہوتا: آزاد مرد اور لونڈی کے درمیان، آزاد عورت اور غلام کے درمیان، مسلم اور یہودیہ کے درمیان اور مسلم اور عیسائی عورت کے درمیان۔“
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے، جو متروک الحدیث ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15299
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: الْوَقَّاصِيُّ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: وقاصی کا نام عثمان بن عبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الرَّهَاوِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، نا أَبِي، نا عِمَادُ بْنُ مَطَرٍ، نا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ⦗٦٥١⦘ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو وَعِمَادُ بْنُ مَطَرٍ وَزَيْدُ بْنُ رُفَيْعٍ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيِّ فِي حَمَّادِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَهُمَا إِمَامَانِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَوْلُهُ لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو بھیجا، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن عمرو، عماد بن مطر اور زید بن رفیع ضعیف ہیں، اور ہم نے حماد بن عمرو کے بارے میں یہی بات یحییٰ بن معین اور امام بخاری سے بھی روایت کی ہے۔ دارقطنی فرماتے ہیں: یہ روایت ابن جریج اور اوزاعی سے، جو دونوں امام ہیں، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے، ان دونوں نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15301
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنَانِيُّ، نا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " أَرْبَعٌ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ لِعَانٌ، الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”چار (قسم کی عورتوں) اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 وہ یہودیہ جو مسلم کے نکاح میں ہو، 2 وہ عیسائی عورت جو مسلم کے نکاح میں ہو، 3 وہ آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو اور 4 وہ لونڈی جو آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15302
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ مُلَاعَنَةٌ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي ثُبُوتِ هَذَا مَوْقُوفًا أَيْضًا نَظَرٌ؛ فَرَاوِي الْأَوَّلِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرَاوِي الثَّانِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَمَّا الَّذِي قَالَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ فَلَعَلَّهُ نُقِلَ إِلَى الشَّافِعِيِّ كَمَا حَكَاهُ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَذَلِكَ مُنْقَطِعٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَكِنْ مَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا أَوْ مَوْقُوفًا إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَذَلِكَ مَوْصُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَقَدْ سَمَّى بَعْضُهُمْ فِي هَذَا جَدَّهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: وَسَمَاعُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ صَحِيحٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلَى عَمْرٍو صَحِيحًا، وَلَمْ تَصِحَّ أَسَانِيدُ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى عَمْرٍو، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار قسم کی عورتوں اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: عیسائی عورت جو مسلم کے نکاح میں ہو، لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو، لونڈی جو آزاد کے نکاح میں ہو اور آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو۔
اس روایت کا موقوف ہونا بھی محل نظر ہے، کیونکہ پہلی روایت کا راوی عمر بن ہارون ہے جو قوی نہیں، اور دوسری کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ ہے جو متروک ہے۔ رہی امام شافعی کی یہ بات کہ یہ منقطع ہے، تو شاید ان تک یہ اسی طرح پہنچی جیسے عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عمرو سے بیان کی، اور یہ بلاشبہ منقطع ہے، لیکن جس نے بھی اسے مرفوع یا موقوف روایت کیا ہے اس نے اسے عمرو عن ابیہ عن جدہ ہی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک موصول ہے، بعض راویوں نے اس میں ان کے دادا کا نام بھی لیا ہے اور کہا ہے: عبداللہ بن عمرو۔ اور شعیب بن محمد بن عبداللہ کا اپنے دادا عبداللہ سے سماع صحیح ہے، لیکن ضروری ہے کہ عمرو تک سند صحیح ہو، اور اس حدیث کی سندیں عمرو تک صحیح نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15303
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَانْهَهُمْ عَنْ كَذَا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ " أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ مُلَاعَنَةٌ: الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْعَبْدُ عِنْدَهُ الْحُرَّةُ، وَالْحُرُّ عِنْدَهُ الْأَمَةُ " وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَاطِلٌ، يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ أَحَادِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عتاب بن اسید! میں نے تجھے اہل مکہ کی طرف بھیجا ہے، انہیں فلاں فلاں کام سے منع کرنا۔“ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”چار کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 یہودیہ مسلم کے نکاح میں ہو، 2 عیسائی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، 3 آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، 4 لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔“
یہ حدیث اس سند کے ساتھ باطل ہے، یحییٰ بن صالح ایلی کی احادیث غیر محفوظ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15304
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل»