کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ فصل اس شخص سے سوال کرنے کے بیان میں ہے جس پر عورت کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 15351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فِي قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً} [النور: ٤] الْآيَةَ قَالَ: فَقَامَ ⦗٦٧٠⦘ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فَذَكَرَ قِصَّةَ سُؤَالِهِ فِي رَجُلٍ يَرَى رَجُلًا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ يَزْنِي بِهَا وَنُزُولَ آيَةِ اللِّعَانِ وَرَمْيَ ابْنِ عَمِّهِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ بِابْنِ عَمِّهِ شَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ وَأَنَّهَا حُبْلَى قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلِيلِ وَالْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَوْجِهَا هِلَالٍ: " وَيْحَكَ مَا تَقُولُ فِي بِنْتِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمِّكَ وَخَلِيلِكَ أَنْ تَقْذِفَهَا بِبُهْتَانٍ " فَقَالَ الزَّوْجُ: أُقْسِمُ بِاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ مَعَهَا عَلَى بَطْنِهَا وَإِنَّهَا لَحُبْلَى وَمَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ: " وَيْحَكِ مَا يَقُولُ زَوْجُكِ؟ " قَالَتْ: أَحْلِفُ بِاللهِ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ وَمَا رَأَى مِنَّا شَيْئًا يُرِيبُهُ، وَذَكَرَ كَلَامًا طَوِيلًا فِي الْإِنْكَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيلِ: " وَيْحَكَ مَا يَقُولُ ابْنُ عَمِّكَ؟ " فَقَالَ: أُقْسِمُ بِاللهِ مَا رَأَى مَا يَقُولُ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَذَكَرَ كَلَامًا طَوِيلًا فِي الْإِنْكَارِ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ: " قُومَا فَاحْلِفَا بِاللهِ " فَقَامَا عِنْدَ الْمِنْبَرِ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَحَلَفَ زَوْجُهَا هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللهِ إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ فَذَكَرَ لِعَانَهُ وَصِفَةَ لِعَانِهَا وَذَكَرَ فِي لِعَانِ الزَّوْجِ أَنَّهَا لَحُبْلَى مِنْ غَيْرِي وَإِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ أَحْلَفَ شَرِيكًا وَإِنَّمَا ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَدَتْ فَأْتُونِي بِهِ " فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا أَنْ نَظَرَ إِلَيْهِ فَرَأَى شَبَهَهُ بِشَرِيكٍ وَكَانَ ابْنَ حَبَشِيَّةٍ قَالَ: " لَوْلَا مَا مَضَى مِنَ الْأَيْمَانِ لَكَانَ لِي فِيهَا أَمْرٌ " يَعْنِي الرَّجْمَ فَقَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا فَأَنْكَرَ فَلَمْ يُحَلِّفْهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَخَذَهُ عَنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ فَإِنَّهُ كَانَ مَسْمُوعًا لَهُ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَوْصُولَةِ، وَالَّذِي قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَلَمْ يُحْضِرْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْمِيَّ بِالْمَرْأَةِ، إِنَّمَا قَالَهُ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ، وَالْمَرْمِيُّ بِالْمَرْأَةِ لَمْ يُسَمَّ فِي قِصَّةِ الْعَجْلَانِيِّ فِي الرِّوَايَاتِ الَّتِي عِنْدَنَا إِلَّا أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ جَاءَتْ بِهِ بِنَعْتِ كَذَا وَكَذَا فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَيْضًا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ رَمَاهَا بِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ وَلَمْ يُنْقَلْ فِيهَا أَنَّهُ أَحْضَرَهُ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْإِمْلَاءِ: أَظُنُّهُ وَقَدْ قَذَفَ الرَّجُلُ الْعَجْلَانِيُّ امْرَأَتَهُ بِابْنِ عَمِّهِ، وَابْنُ عَمِّهِ شَرِيكُ بْنُ السَّحْمَاءِ ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَالْتَعَنَ الْعَجْلَانِيُّ فَلَمْ يُحِدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا بِالْتِعَانِهِ، وَالَّذِي فِي مَا رَوَيْنَا مِنَ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الَّذِيَ رَمَى زَوْجَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ مِنْ بَنِي الْوَاقِفِ وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا سَمَّى فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ رَمْيَهُ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ إِلَّا مِنْ جِهَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْوَاقِدِيِّ بِإِسْنَادٍ لَهُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِيمَا مَضَى وَهُوَ أَيْضًا فِي رِوَايَةِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا مَضَى فِي الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةِ وَإِنَّمَا سُمِّيَ فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ الْقِصَّتَانِ وَاحِدَةً، فَقَدْ ذُكِرَ فِي⦗٦٧١⦘ الرِّوَايَاتِ الْمَوْصُولَةِ فِي قِصَّةِ الْعَجْلَانِيِّ أَنَّهُ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ لِلسُّؤَالِ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ نَزَلَتِ الْآيَةُ وَجَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا " وَذُكِرَ فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَيْضًا نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ وَأَنَّهُ لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَقَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا " وَذَكَرَ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ فِي قِصَّةِ هِلَالٍ سُؤَالَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَإِمَّا أَنْ تَكُونَا قِصَّةً وَاحِدَةً، وَاخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي اسْمِ الرَّامِي، فَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُسَمِّيَانِهِ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ يُسَمِّيهِ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ يَقُولُ: لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: فَرَّقَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ فِي الْإِمْلَاءِ خَارِجًا عَنْ بَعْضِ مَا رُوِيَ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي اسْمِ الرَّجُلِ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَا قِصَّتَيْنِ وَكَانَ عَاصِمٌ حِينَ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ إِنمَّا سَأَلَ لِعُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ فَابْتُلِيَ بِهِ أَيْضًا هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَنَزَلَتِ الْآيَةُ فحِينَ حَضَرَ كُلٌّ واحد مِنْهُمَا لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَأُضِيفَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ إِلَيْهِ فَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَا وَقَعَ فِي الْإِمْلَاءِ خَطَأٌ مِنَ الْكَاتِبِ أَوْ تَقْلِيدًا لِمَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ وَحَدِيثِ الْوَاقِدِيِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
بکیر بن معروف حضرت مقاتل بن حیان رحمہ اللہ سے اللہ کے اس قول ﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً﴾ [سورة النور: 4] ”وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ بھی نہیں لاتے انھیں ۸۰ کوڑے مارو۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اس شخص کا قصہ بیان کر دیا جس نے اپنی بیوی کے پیٹ پر دوسرے آدمی کو دیکھا کہ زنا کر رہا ہے اور لعان کی آیات کا نزول ہوا۔ اس کے چچا زاد ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد شریک بن سحماء کے ساتھ اپنی بیوی کو تہمت لگائی کہ وہ اس سے حاملہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے خلیل، عورت اور خاوند کو بلایا وہ سارے آپ کے پاس جمع ہو گئے، نبی ﷺ نے اس کے خاوند ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تجھ پر افسوس! اپنے چچا کی بیٹی اور بیٹے اور اپنے دوست کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے، تو ان پر تہمت لگا رہا ہے؟“ تو خاوند نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں قسم اٹھاتا ہوں، میں نے اسے اس کے پیٹ پر دیکھا ہے، یہ اس سے حاملہ ہے، میں تو چار ماہ سے اس کے قریب تک نہیں گیا۔ آپ ﷺ نے بیوی سے پوچھا: ”تیرا خاوند کیا کہہ رہا ہے؟“ اس نے کہا: میں اللہ کی قسم اٹھاتی ہوں یہ جھوٹا ہے اور اس نے کوئی چیز اس طرح کی نہیں دیکھی جو شک پیدا کرے تو انکار میں اس نے لمبی بات کی تو خلیل سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے چچا زاد کے بارے میں کیا کہتا ہے؟“ اس نے کہا: میں اللہ کی قسم اٹھاتی ہوں، اس نے نہیں دیکھا جو کہہ رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ اس نے بھی لمبی بات چیت کی انکار میں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے میاں، بیوی سے کہا: ”تم کھڑے ہو کر قسمیں اٹھاؤ۔“ وہ عصر کی نماز کے بعد منبر کے پاس کھڑے ہو گئے تو اس کے خاوند ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے قسمیں اٹھائیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں سچا ہوں، اس نے لعان اور لعان کا طریقہ واضح کیا اور خاوند کے لعان میں ذکر کیا کہ وہ میرے غیر سے حاملہ ہے، میں سچا ہوں۔ پھر اس نے شریک کے قسم اٹھانے کا تذکرہ نہیں کیا۔ صرف نبی ﷺ کا قول ذکر کیا ہے کہ ”جب وہ بچے کو جنم دے تو میرے پاس لانا۔“ اس نے سخت سیاہ بچہ جنم دیا گویا کہ وہ حبشہ سے ہے، جب آپ نے دیکھا تو مشابہت شریک کے ساتھ دیکھی۔ وہ ایک حبشی عورت کا بیٹا تھا۔ فرمایا: ”اگر لعان نہ ہو چکا ہوتا تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا یعنی رجم کر دیتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے شریک سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا، لیکن آپ نے اس سے قسم نہیں لی۔ ممکن ہے یہ قول انھوں نے اہل تفسیر سے لیا ہو، کیونکہ موصول روایات میں یہ موجود نہیں ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں جو بات کہی کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی اس کو بلایا ہی نہیں۔ کسی روایت میں اس کا اس طرح تذکرہ نہیں آتا، سوائے مشابہت کے تذکرہ کے۔ گویا ایک معین شخص کے ساتھ تہمت لگائی، لیکن بلانے کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد پر تہمت لگائی لیکن اس کے لعان کے بعد نبی ﷺ نے شریک پر حد نہیں لگائی اور محمد بن عمر واقدی کی سند سے یہ ملتا ہے کہ عجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے شریک سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا، لیکن آپ نے اس سے قسم نہیں لی۔ ممکن ہے یہ قول انھوں نے اہل تفسیر سے لیا ہو، کیونکہ موصول روایات میں یہ موجود نہیں ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں جو بات کہی کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی اس کو بلایا ہی نہیں۔ کسی روایت میں اس کا اس طرح تذکرہ نہیں آتا، سوائے مشابہت کے تذکرہ کے۔ گویا ایک معین شخص کے ساتھ تہمت لگائی، لیکن بلانے کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد پر تہمت لگائی لیکن اس کے لعان کے بعد نبی ﷺ نے شریک پر حد نہیں لگائی اور محمد بن عمر واقدی کی سند سے یہ ملتا ہے کہ عجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا۔