کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: آیتِ ظہار کے شانِ نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 15242
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ تَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس کی سماعت نے تمام آوازوں کا احاطہ کر رکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت جھگڑتے ہوئے شکایت کر رہی تھی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھی، میں نے نہ سنا وہ کیا کہہ رہی تھی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15242
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " تَبَارَكَ اللهُ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ لَهُ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي، اللهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ "، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] قَالَ: وَزَوْجُهَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ رب العزت برکت دے اس ذات کو جس کی سماعت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ میں خولہ بنت ثعلبہ کے کلام کو سن رہی تھی اور ان کی کچھ باتیں مجھ پر پوشیدہ تھیں، یہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میری جوانی کو ختم کر دیا اور میں نے اس کی اولاد کو جنم دیا، جب میں بوڑھی ہو گئی اور اولاد کا سلسلہ ختم ہو گیا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا۔ اے اللہ! میں تجھ سے شکایت کرتی ہوں“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اسی حالت میں تھیں کہ جبرائیل امین یہ آیت لے کر آگئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی“۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15243
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15244
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، نا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ جَمِيلَةَ كَانَتِ امْرَأَةَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ ⦗٦٢٩⦘ أَوْسٌ امْرَأً بِهِ لَمَمٌ فَإِذَا اشْتَدَّ بِهِ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَفَّارَةَ الظِّهَارِ " وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حَمَّادٍ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی جمیلہ تھیں اور اوس ایسا شخص تھا جس کو جنون کی بیماری تھی، جب بیماری بڑھی تو اوس نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا تو اللہ رب العزت نے ظہار کا کفارہ نازل کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15244
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15245
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسٌ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهَا خُوَيْلَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ فَظَاهَرَ مِنْهَا فَأُسْقِطَ فِي يَدِهِ، وَقَالَ مَا أَرَاكِ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيَّ، قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: قَالَ فَانْطَلِقِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلِيهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ مَاشِطَةً تَمْشُطُ رَأْسَهُ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: " يَا خُوَيْلَةُ مَا أُمْرِنَا فِي أَمْرِكِ بِشَيْءٍ "، فَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا خُوَيْلَةُ أَبْشِرِي " قَالَتْ: خَيْرًا قَالَ: " خَيْرًا " فَقَرَأَ عَلَيْهَا قَوْلَهُ تَعَالَى: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] الْآيَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دورِ جاہلیت میں مرد اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر ایسی ہی ہے جیسی میری والدہ، تو اسلام میں یہ عورت مرد پر حرام ہو جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا ظہار اوس رضی اللہ عنہ نے کیا، ان کے نکاح میں چچا کی بیٹی خویلہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔ اوس رضی اللہ عنہ نے ظہار کیا تو ان کے ہاتھ سے چیز بھی گر گئی اور انہوں نے کہا: میرے خیال میں تو میرے اوپر حرام ہو گئی ہے، تو خولہ رضی اللہ عنہا نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ راوی کہتے ہیں کہ اوس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ کے پاس جا کر سوال کرو، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ کو کوئی زوجہ مطہرہ کنگھی کر رہی تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خولہ! آپ کے معاملے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔“ پھر نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خولہ! خوش ہو جا۔“ وہ کہتی ہیں: بھلائی یا بہتر! آپ ﷺ نے فرمایا: ”خیر“ اور پھر آپ ﷺ نے ان پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15245
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15246
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا يَقَعُ فِي الظِّهَارِ طَلَاقٌ يَعْنِي بِالظِّهَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ظہار کی وجہ سے طلاق نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15246
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْكَعْبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، نا بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: " كَانَ الظِّهَارُ وَالْإِيلَاءُ طَلَاقًا عَلَى عَهْدِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَقَّتَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْإِيلَاءِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَجَعَلَ فِي الظِّهَارِ الْكَفَّارَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار اور ایلا دورِ جاہلیت میں طلاق ہوتے تھے، تو اللہ رب العزت نے ایلا کی مدت چار مہینے مقرر فرما دی اور ظہار میں کفارہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15247
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»