حدیث نمبر: 13105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: " مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ فَهُوَ لِأَنَّ ⦗٦٠٣⦘ بَنِي سَهْمٍ كَانُوا مُظَاهِرِينَ لِبَنِي عَدِيٍّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَاجْتَمَعَتْ بَنُو جُمَحٍ عَلَى بَنِي عَدِيٍّ لِنَاثِرَةٍ بَيْنَهُمْ، فَقَامَتْ دُونَهُمْ سَهْمٌ إِخْوَةُ جُمَحٍ فَقَالُوا: إِنَّ عَدِيًّا أَقَلُّ مِنْكُمْ عَدَدًا، فَإِنْ شِئْتُمْ فَأَخْرِجُوا إِلَيْهِمْ أَعْدَادَهُمْ مِنْكُمْ، وَنُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ وَفَّيْنَاهُمْ مِنَّا حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَكُمْ، فَتَحَاجَزُوا. قَالَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، وَأَمَّا أَبُو عُبَيْدَةَ فَإِنَّهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَهْيَبَ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہیں عزت ملنا شروع ہوگئی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب اسلام آیا تو بنی سہم اور ہمارا معاملہ ایک ہی تھا۔ چونکہ بنی سہم جاہلیت میں بنی عدی کے مددگار تھے۔ بنو جمع، بنی عدی پر غالب ہونے کے لیے جمع ہوئے تو بنی جمع کے بھائی بنی سہم ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: بنی عدی تعداد میں تم سے تھوڑے ہیں، اگر تم چاہو تو تیاری کر کے ان پر خروج (حملہ) کرو، ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہوں گے اور اگر تم چاہو تو ہم انہیں اپنی طرف سے ادا کردیں۔ وہ تمہارے جیسے ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے سے رک گئے۔ یہ بات زبیر بن بکار رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک ہے۔ یہ قول محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13105