السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ؟ فَقَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانَ:.مالک بن مغول ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا، پہلے کون ایمان لایا تھا؟ انھوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ کیا تو نے حسان کا قول سنا ہے: جب تو میرے بااعتماد بھائی سے غم کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کے ان کارناموں کو یاد کر جو اس نے سر انجام دیے۔
مخلوق میں سب سے بہترین نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ وفادار، عادل اور بوجھ کا سب سے زیادہ لائق جو اس نے اٹھایا وہ یارِ غار تھے یعنی ایسی جگہ پر حاضر تھے جس کی تعریف کی گئی ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلا جس نے رسولوں کی تصدیق کی اللہ کے امر کی تعریف کرتے ہوئے اور گزرنے والے دوست کی سیرت اور فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ بات ایسے معلوم ہوتی ہے کہ بنی تیم میں مسابقت سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بھی تیمی ہیں، ان کا نسب نامہ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔