السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِهْرُ بْنُ مَالِكٍ أَصْلُ قُرَيْشٍ فِي أَقَاوِيلِ أَكْثَرِهِمْ فَبَنُو هَاشِمٍ يَجْمَعُهُمْ أَبُو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثُ، وَسَائِرُ قُرَيْشٍ يَجْمَعُ بَعْضَهُمُ الْأَبُ الرَّابِعُ عَبْدُ مَنَافٍ، وَبَعْضَهُمُ الْأَبُ الْخَامِسُ قُصَيٌّ، وَهَكَذَا إِلَى فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ؛ فَلِذَلِكَ وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي هَاشِمٍ، وَإِنَّمَا جَمَعَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ فِي الْعَطِيَّةِ لِمَا رَوَيْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا ⦗٥٩٤⦘ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے رشتہ داروں، یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو حصہ دیا تو میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے بھائی بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، لیکن بنی مطلب سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا اور ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجہ میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہ ہم سے جاہلیت میں علیحدہ تھے اور نہ اسلام میں اور بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔