حدیث نمبر: 13070
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لِي: " بِمَاذَا قَدِمْتَ؟ " قُلْتُ: قَدِمْتُ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: " إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ "، قُلْتُ: بَلْ قَدِمْتُ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: " أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ يَمَانٍ أَحْمَقُ، إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَكَمْ ثَمَانُمِائَةِ أَلْفٍ؟ " فَعَدَدْتُ مِائَةَ أَلْفٍ وَمِائَةَ أَلْفٍ حَتَّى عَدَدْتُ ثَمَانَمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: " أَطَيِّبٌ؟ وَيْلَكَ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَاتَ عُمَرُ لَيْلَتَهُ أَرِقًا، حَتَّى إِذَا نُودِيَ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نِمْتَ اللَّيْلَة، قَالَ: كَيْفَ يَنَامُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ جَاءَ النَّاسَ مَا لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِمْ مِثْلُهُ مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ، فَمَا يُؤْمِنُ عُمَرَ لَوْ هَلَكَ وَذَلِكَ الْمَالُ عِنْدَهُ فَلَمْ يَضَعْهُ فِي حَقِّهِ. فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّهُ قَدْ جَاءَ النَّاسَ اللَّيْلَةَ مَا لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِمْ مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَأْيًا فَأَشِيرُوا عَلَيَّ، رَأَيْتُ أَنْ أَكِيلَ لِلنَّاسِ بِالْمِكْيَالِ "، فَقَالُوا: لَا تَفْعَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ إِنَّ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي الْإِسْلَامِ وَيَكْثُرُ الْمَالُ، وَلَكِنْ أَعْطِهِمْ عَلَى كِتَابٍ، فَكُلَّمَا كَثُرَ النَّاسُ وكَثُرَ الْمَالُ أَعْطَيْتَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَأَشِيرُوا عَلَيَّ بِمَنْ أَبْدَأُ مِنْهُمْ "، قَالُوا: بِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ إِنَّكَ وَلِيُّ ⦗٥٩٢⦘ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ أَبْدَأُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ إِلَيْهِ ". فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: بَدَأَ بِهَاشِمٍ وَالْمُطَّلِبِ فَأَعْطَاهُمْ جَمِيعًا، ثُمَّ أَعْطَى بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، ثُمَّ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَإِنَّمَا بَدَأَ بِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ؛ أَنَّهُ كَانَ أَخَا هَاشِمٍ لِأُمِّهِ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: أَوَّلُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فِي الدَّعْوَةِ عَبْدُ الْمَلِكِ، فَذَكَرَ فِي ذَلِكَ قِصَّةً.
حافظ ثناء اللہ

عبید اللہ بن عبد اللہ بن موہب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آٹھ سو ہزار درہم لے کر آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: آٹھ سو ہزار درہم، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آٹھ ہزار درہم لائے ہو؟ میں نے کہا: بلکہ آٹھ سو ہزار درہم لایا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تجھے کہا نہیں کہ تو یمنی احمق ہے، تو اسی ہزار درہم لایا ہے، پس آٹھ سو ہزار کتنے ہوتے ہیں؟ پس میں نے ایک سو ہزار کر کے گنوایا حتیٰ کہ میں نے پورے کر دیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا واقعی ایسے ہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رات بڑی رقت میں گزاری حتیٰ کہ صبح کی نماز کے لیے بلایا گیا تو ان کی زوجہ نے کہا: اے امیر المومنین! رات آپ سوئے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا: عمر کیسے سوتا اور تحقیق ایسا مال آیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ آیا تھا، پس عمر مومن نہ ہوتا اگر وہ فوت ہو جاتا اور اس کے پاس مال ہوتا اور اس نے اسے اس کے مصرف میں نہ لگایا ہوتا۔ جب صبح کی نماز پڑھائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت ان کے پاس جمع ہو گئی۔ ان سے کہا: رات ایسا مال آیا ہے کہ اس سے پہلے اسلام میں کبھی نہ آیا تھا اور میں نے ایک رائے دیکھی ہے، پس مجھے بتلاؤ، میں نے دیکھا ہے کہ میں لوگوں کو وزن کر کے دے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! ایسا نہ کریں، لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور مال زیادہ ہے، لیکن آپ کتاب کے مطابق دیں، جب لوگ زیادہ ہوں اور مال بھی زیادہ ہو تو ان کو دے دینا، انہوں نے کہا: پس تم مجھے بتاؤ کس سے ابتدا کروں؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اپنے آپ سے ابتدا کریں آپ خلیفہ ہیں اور بعض نے کہا: امیر المومنین بہتر جانتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ ﷺ سے ابتدا کرتا ہوں، پھر جو قریبی ہوں ان سے۔ پس رجسٹر (دیوان) رکھا گیا، عبید اللہ نے کہا: ہاشم اور مطلب سے ابتدا کریں۔ ان سب کو دیں، پھر بنی عبد شمس کو دیں، پھر بنی نوفل کو اور انہوں نے بنی عبد شمس سے ابتدا کی؛ کیونکہ وہ بنی ہاشم کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ عبید اللہ نے کہا: پہلے جس نے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں فرق کیا وہ عبد الملک ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13070
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»