السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ. قَالَ عُرْوَةُ: وَنُفِخَتْ نَفْخَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخِذَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ، وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَعَهُ السَّيْفُ، فَمَنْ رَآهُ مِمَّنْ لَا يَعْرِفُهُ قَالَ: الْغُلَامُ مَعَهُ السَّيْفُ، حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ يَا زُبَيْرُ؟ " قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّكَ أُخِذْتَ، قَالَ: " فَكُنْتَ صَانِعًا مَاذَا؟ " قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ بِهِ مَنْ أَخَذَكَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِسَيْفِهِ وَكَانَ أَوَّلَ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ.عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اسلام لائے، وہ آٹھ برس کے تھے، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: شیطان نے مشہور کردیا کہ رسول اللہ ﷺ پکڑ لیے گئے ہیں، پس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے اور وہ بارہ برس کے تھے، ان کے پاس تلوار تھی جو بھی دیکھتا، پہچانتا نہ تھا اور کہتا: بچے کے پاس تلوار ہے یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے زبیر! تجھے کیا ہے؟“ عرض کیا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کو پکڑ لیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تو کیا کرے گا؟“ عرض کیا: میں اس کی گردن اتار دوں گا، جس نے آپ کو پکڑا ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا کی اور وہ پہلی تلوار تھی جو اسلام میں سونتی گئی۔