❮
❯
حدیث نمبر: 13072
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالصِّدْقِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ وَمِنْ غَيْرِهِمْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ أَحْسَنَ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ مِنْ بَعْضٍ، وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ قَالَ: " أَبْدَأُ بِبَنِي هَاشِمٍ "، ثُمَّ قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَإِذَا كَانَ الْمُسِنُّ فِي الْهَاشِمِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْمُطَّلِبِيِّ، وَإِذَا كَانَ فِي الْمُطَّلِبِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْهَاشِمِيِّ. فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَعْطَاهُمْ عَطَاءَ الْقَبِيلَةِ الْوَاحِدَةِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ فِي جِذْمِ النَّسَبِ "، فَقَالَ: " عَبْدُ شَمْسٍ إِخْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ نَوْفَلٍ "، فَقَدَّمَهُمْ، ثُمَّ دَعَا بَنِي نَوْفَلٍ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ، فَقَالَ فِي بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: " أَصْهَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِيهِمْ: " إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ "، وَقَالَ: بَعْضُهُمُ: هُمْ حِلْفٌ مِنَ الْفُضُولِ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ انْفَرَدَتْ لَهُ زُهْرَةُ، فَدَعَاهَا تِلْوَ عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ تَيْمٌ وَمَخْزُومٌ، فَقَالَ فِي بَنِي تَيْمٍ: " إِنَّهُمْ مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيِّبِينَ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَقِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، وَقِيلَ: ذَكَرَ صِهْرًا، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى مَخْزُومٍ، ثُمَّ دَعَا مَخْزُومًا يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ سَهْمٌ وَجُمَحٌ وَعَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بَعَدِيٍّ، فَقَالَ: " بَلْ أُقِرُّ نَفْسِي حَيْثُ كُنْتُ؛ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ، وَلَكِنِ انْظُرُوا بَنِي جُمَحٍ وَسَهْمٍ "، فَقِيلَ قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَهْمٍ، وَكَانَ دِيوَانُ عَدِيٍّ وَسَهْمٍ مُخْتَلِطًا كَالدَّعْوَةِ الْوَاحِدَةِ، فَلَمَّا خَلَصَتْ إِلَيْهِ دَعْوَتُهُ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَالِيَةً ثُمَّ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْصَلَ إِلِيَّ حَظِّيَ مِنْ رَسُولِهِ "، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ أَبَا ⦗٥٩٣⦘ عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بن الْجَرَّاحَ الْفِهْرِيَّ لَمَّا رَأَى مَنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: أَكُلَّ هَؤُلَاءِ تَدْعُو أَمَامِي؟ فَقَالَ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، اصْبِرْ كَمَا صَبَرْتَ، أَوْ كَلِّمْ قَوْمَكَ، فَمَنْ قَدَّمَكَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ لَمْ أَمْنَعْهُ، فَأَمَّا أَنَا وَبَنُو عَدِيٍّ فَنُقَدِّمُكَ إِنْ أَحْبَبْتَ عَلَى أَنْفُسِنَا. قَالَ: فَقَدَّمَ مُعَاوِيَةُ بَعْدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، فَصَلَ بِهِمْ بَيْنَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَشَجَرَ بَيْنَ بَنِي سَهْمٍ وَعَدِيٍّ شَيْءٌ فِي زَمَانِ الْمَهْدِيِّ فَافْتَرَقُوا، فَأَمَرَ الْمَهْدِيُّ بِبَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ کو اہل مدینہ اور مکہ میں سے، قبائلِ قریش اور دوسرے لوگوں میں سے کئی اہلِ علم و صدق نے خبر دی، ان میں سے بعض دوسروں سے بہتر انداز میں واقعہ بیان کرتے تھے اور بعض نے دوسروں پر کچھ اضافہ کیا، کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب رجسٹر تیار کروائے تو کہا: ”میں بنو ہاشم سے ابتدا کرتا ہوں“، پھر کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ ﷺ انھیں اور بنو مطلب کو عطا فرما رہے تھے، جب عمر رسیدہ آدمی ہاشمیوں میں ہوتا تو آپ ﷺ اسے مطلبی پر مقدم کرتے اور جب مطلبیوں میں ہوتا تو اسے ہاشمی پر مقدم کرتے“، تو انھوں نے اسی طرز پر رجسٹر مرتب کیا اور انھیں ایک قبیلے کا عطیہ دیا۔ پھر نسب کی جڑ میں عبد شمس اور نوفل ان کے سامنے برابر آئے تو انھوں نے کہا: ”عبد شمس نبی ﷺ کے باپ اور ماں دونوں کی طرف سے بھائی ہیں، نوفل نہیں“، تو انھیں مقدم کیا، پھر بنو نوفل کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر عبدالعزیٰ اور عبدالدار برابر آئے تو انھوں نے بنو اسد بن عبدالعزیٰ کے بارے میں کہا: ”یہ نبی ﷺ کے سسرالی رشتہ دار ہیں“ اور ان کے بارے میں کہا: ”یہ مطیبین میں سے ہیں“، اور بعض نے کہا: یہ حلف الفضول والے ہیں اور ان دونوں (معاہدوں) میں رسول اللہ ﷺ شامل تھے، اور ایک قول ہے کہ انھوں نے (اسلام میں) سبقت کا ذکر کیا، تو انھیں بنو عبدالدار پر مقدم کیا، پھر بنو عبدالدار کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر زہرہ اکیلے رہ گئے تو انھیں عبدالدار کے بعد بلایا۔ پھر تیم اور مخزوم برابر آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو تیم کے بارے میں کہا: ”یہ حلف الفضول اور مطیبین میں سے ہیں اور ان دونوں میں رسول اللہ ﷺ شامل تھے“، ایک قول ہے کہ انھوں نے سبقت کا ذکر کیا اور ایک قول ہے کہ سسرالی رشتے کا ذکر کیا، تو انھیں مخزوم پر مقدم کیا، پھر مخزوم کو بلایا کہ وہ ان کے بعد آئیں۔ پھر سہم، جمح اور عدی بن کعب برابر آئے تو ان سے کہا گیا: عدی سے ابتدا کریں، انھوں نے کہا: ”بلکہ میں اپنے آپ کو وہیں رکھوں گا جہاں میں تھا، کیونکہ اسلام آیا تو ہمارا اور بنو سہم کا معاملہ ایک تھا، لیکن بنو جمح اور سہم کو دیکھو“، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بنو جمح کو مقدم کیا، پھر بنو سہم کو بلایا۔ عدی اور سہم کا رجسٹر ملا ہوا تھا گویا ایک ہی پکار ہو، جب ان کی اپنی پکار الگ ہو کر ان تک پہنچی تو انھوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی، پھر کہا: ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے رسول ﷺ سے میرا حصہ مجھ تک پہنچایا“، پھر بنو عامر بن لؤی کو بلایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کیا گیا ہے تو کہا: ”کیا ان سب کو آپ مجھ سے پہلے بلا رہے ہیں؟“ تو انھوں نے کہا: ”اے ابوعبیدہ! صبر کرو جیسے تم نے صبر کیا ہے، یا اپنی قوم سے بات کرو، ان میں سے جو تمہیں اپنے آپ پر مقدم کرے میں اسے نہیں روکوں گا، رہا میں اور بنو عدی، تو اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اپنے آپ پر مقدم کر دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے بنو حارث بن فہر کو مقدم کیا اور ان کے ذریعے بنو عبد مناف اور اسد بن عبدالعزیٰ کے درمیان فاصلہ کیا۔ اور مہدی کے زمانے میں بنو سہم اور عدی کے درمیان کچھ اختلاف ہو گیا تو وہ الگ ہو گئے، پس مہدی نے بنو عدی کے بارے میں حکم دیا تو انھیں ان میں موجود سبقت کی وجہ سے سہم اور جمح پر مقدم کیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13072
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»