السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالصِّدْقِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ وَمِنْ غَيْرِهِمْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ أَحْسَنَ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ مِنْ بَعْضٍ، وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ قَالَ: " أَبْدَأُ بِبَنِي هَاشِمٍ "، ثُمَّ قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَإِذَا كَانَ الْمُسِنُّ فِي الْهَاشِمِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْمُطَّلِبِيِّ، وَإِذَا كَانَ فِي الْمُطَّلِبِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْهَاشِمِيِّ. فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَعْطَاهُمْ عَطَاءَ الْقَبِيلَةِ الْوَاحِدَةِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ فِي جِذْمِ النَّسَبِ "، فَقَالَ: " عَبْدُ شَمْسٍ إِخْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ نَوْفَلٍ "، فَقَدَّمَهُمْ، ثُمَّ دَعَا بَنِي نَوْفَلٍ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ، فَقَالَ فِي بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: " أَصْهَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِيهِمْ: " إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ "، وَقَالَ: بَعْضُهُمُ: هُمْ حِلْفٌ مِنَ الْفُضُولِ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ انْفَرَدَتْ لَهُ زُهْرَةُ، فَدَعَاهَا تِلْوَ عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ تَيْمٌ وَمَخْزُومٌ، فَقَالَ فِي بَنِي تَيْمٍ: " إِنَّهُمْ مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيِّبِينَ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَقِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، وَقِيلَ: ذَكَرَ صِهْرًا، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى مَخْزُومٍ، ثُمَّ دَعَا مَخْزُومًا يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ سَهْمٌ وَجُمَحٌ وَعَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بَعَدِيٍّ، فَقَالَ: " بَلْ أُقِرُّ نَفْسِي حَيْثُ كُنْتُ؛ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ، وَلَكِنِ انْظُرُوا بَنِي جُمَحٍ وَسَهْمٍ "، فَقِيلَ قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَهْمٍ، وَكَانَ دِيوَانُ عَدِيٍّ وَسَهْمٍ مُخْتَلِطًا كَالدَّعْوَةِ الْوَاحِدَةِ، فَلَمَّا خَلَصَتْ إِلَيْهِ دَعْوَتُهُ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَالِيَةً ثُمَّ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْصَلَ إِلِيَّ حَظِّيَ مِنْ رَسُولِهِ "، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ أَبَا ⦗٥٩٣⦘ عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بن الْجَرَّاحَ الْفِهْرِيَّ لَمَّا رَأَى مَنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: أَكُلَّ هَؤُلَاءِ تَدْعُو أَمَامِي؟ فَقَالَ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، اصْبِرْ كَمَا صَبَرْتَ، أَوْ كَلِّمْ قَوْمَكَ، فَمَنْ قَدَّمَكَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ لَمْ أَمْنَعْهُ، فَأَمَّا أَنَا وَبَنُو عَدِيٍّ فَنُقَدِّمُكَ إِنْ أَحْبَبْتَ عَلَى أَنْفُسِنَا. قَالَ: فَقَدَّمَ مُعَاوِيَةُ بَعْدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، فَصَلَ بِهِمْ بَيْنَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَشَجَرَ بَيْنَ بَنِي سَهْمٍ وَعَدِيٍّ شَيْءٌ فِي زَمَانِ الْمَهْدِيِّ فَافْتَرَقُوا، فَأَمَرَ الْمَهْدِيُّ بِبَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ.امام شافعی رحمہ اللہ کو اہل مدینہ، مکہ اور قبائلِ قریش میں سے کسی نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجسٹر تیار کروائے اور کہا: ”میں بنو ہاشم سے ابتدا کرتا ہوں“، پھر کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جب آپ ﷺ ہاشمیوں میں ہوتے تو مطلبیوں پر ان کو مقدم کرتے۔ جب بنو مطلب میں ہوتے تو انھیں بنو ہاشم پر مقدم کرتے“، تو انھوں نے اسی طرز پر رجسٹر مرتب کیا اور انھیں ایک قبیلہ سمجھ کر مال دیا۔ پھر عبد شمس اور نوفل کو ایک قبیلہ شمار کیا تو عبد شمس نے کہا کہ وہ نبی ﷺ کے حقیقی بھائی ہیں، نوفل کے علاوہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں مقدم کیا، پھر بنو نوفل کو بلایا اور وہ ان کے پیچھے پیچھے آئے۔ پھر آپ کے پاس عبدالعزیٰ اور عبدالدار کی باری آئی تو انھوں نے بنو اسد بن عبدالعزیٰ کے بارے میں کہا کہ وہ نبی ﷺ کے ازواجی رشتہ دار ہیں اور ان میں بنو مطلب بھی ہیں اور کہا: بعض ان میں حلف الفضول والے ہیں اور ان دونوں میں رسول اللہ ﷺ شامل تھے، ایک قول ہے کہ انھوں نے مسابقت کا ذکر کیا تو انھیں بنوعبدالدار پر مقدم کیا۔ پھر بنو عبدالدار کو بلایا، وہ ان کے بعد آئے، پھر زہرہ اکیلی رہ گئیں تو عبدالدار کے بعد انھیں بلایا۔ پھر تیم اور مخزوم قبیلے والوں کی باری آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیم والوں کے بارے میں کہا کہ وہ حلیف الفضول اور مطلب سے ہیں اور ان دونوں کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے، ایک قول ہے کہ مسابقت کا ذکر کیا گیا۔ ایک قول کہ ازدواجی رشتے کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے انھیں مخزوم پر مقدم کیا، پھر مخزوم کو بلایا، وہ ان کے بعد آئے۔ پھر سہم، جمع اور عدی بن کعب کی باری آئی، ان سے کہا گیا: عدی سے ابتدا کرو، انھوں نے کہا: ”میں اپنے آپ کو اپنے قول پر پکا رکھتا ہوں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہمارا اور بنو سہم کا ایک معاملہ ہے۔ لیکن بنو جمع اور سہم کی طرف دیکھو“، تو کہا گیا: بنو جمع کو مقدم کرو۔ پھر بنو سہم کو بلایا۔ بنو عدی اور بنو سہم کا ایک رجسٹر تھا۔ جیسے ان کی دعوت ایک ہی ہو۔ جب وہ اس کام سے فارغ ہو گئے تو بلند آواز سے تکبیر کہی پھر کہا: ”تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے اپنے رسول ﷺ سے میرا حصہ عطا کیا“، پھر بنو عامر بن لوئی کو بلایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض کہتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کر رہے ہیں، کہا: ”کیا ان سب کو مجھ سے پہلے بلا رہے ہو؟“ تو انھوں نے کہا: ”صبر کر جیسے میں نے صبر کیا یا اپنی قوم سے بات کرو۔ جس نے آپ کو ان میں سے ان پر مقدم کیا، میں نے منع نہیں کیا۔ اگر آپ پسند کریں تو میں اور بنو عدی تجھ کو اپنے پر مقدم کرتے ہیں۔“ کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو حارث بن مغیرہ کے بعد مقدم کیا۔ ان کے ساتھ بنو عبد مناف اور بنو اسد بن عبدالعزیٰ میں فصل کیا۔ بنو سہم اور عدی میں کسی چیز کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا اور وہ علیحدہ ہو گئے۔ عدی نے بنی عدی کو حکم دیا تو وہ حصے میں مقدم ہو گئے اور جمع ان میں مسابقت کیے۔