السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ أَصَابِعَهُ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ - لَعَنَ اللهُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ كِبَارًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ عُثْمَانُ وَجُبَيْرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛ لِأَنَّ عُثْمَانَ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَجُبَيْرٌ هُوَ ابْنُ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ كَانُوا إِخْوَةً، فَأَعْطَى سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ دُونَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ وَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " وَفِي الرِّوَايَةِ الْمُرْسَلَةِ: " رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ " أَوْ قَالَ: " وَحَمَلُونَا كِبَارًا " وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ هَاشِمَ بْنَ عَبْدِ مَنَافٍ تَزَوَّجَ سَلْمَى بِنْتَ عَمْرِو بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ بِالْمَدِينَةِ، فَوَلَدَتْ لَهُ شَيْبَةَ الْحَمْدِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ هَاشِمٌ وَهُوَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَيْفَعَ وَتَرَعْرَعَ خَرَجَ إِلَيْهِ عَمُّهُ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ فَأَخَذَهُ مِنْ أُمِّهِ وَقَدِمَ بِهِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُرْدِفُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقِيلَ: عَبْدٌ مَلَكَهُ الْمُطَّلِبُ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الِاسْمُ، فَقِيلَ: عَبْدُ الْمُطَّلِبِ، وَحِينَ بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ آذَاهُ قَوْمُهُ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَامَتْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ؛ مُسْلِمُهُمْ وَكَافِرُهُمْ، دُونَهُ، وَأَبَوْا أَنْ يُسْلِمُوهُ، فَلَمَّا عَرَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا سَبِيلَ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَكْتُبُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنْكِحُوهُمْ وَلَا يُنْكِحُوا إِلَيْهِمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يَبْتَاعُوا مِنْهُمْ، وَعَمَدَ أَبُو طَالِبٍ فَأَدْخَلَهُمُ الشِّعْبَ شِعْبَ أَبِي طَالِبٍ فِي نَاحِيَةٍ مِنْ مَكَّةَ، وَأَقَامَتْ قُرَيْشٌ عَلَى ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ فِي بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، حَتَّى جَهِدُوا جَهْدًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ أَرْسَلَ عَلَى صَحِيفَةِ قُرَيْشٍ الْأَرَضَةَ فَلَمْ تَدَعْ فِيهَا اسْمًا لِلَّهِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، وَبَقِيَ فِيهَا الظُّلْمُ وَالْقَطِيعَةُ وَالْبُهْتَانُ، وَأَخْبَرَ بِذَلِكَ رَسُولَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ، وَاسْتَنْصَرَ بِهِ ⦗٥٩٥⦘ أَبُو طَالِبٍ عَلَى قَوْمِهِ، وَقَامَ هِشَامُ بْنُ عَمْرِو بْنِ رَبِيعَةَ فِي جَمَاعَةٍ ذَكَرَهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي الْمَغَازِي بِنَقْضِ مَا فِي الصَّحِيفَةِ وَشَقِّهَا؛ فَلِذَلِكَ جَمَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَائِرِ الْعَطِيَّةِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَدَّمَهُمَا عَلَى بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ، وَإِنَّمَا وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ قَبْلَ نَوْفَلٍ؛ لِأَنَّ هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ وَعَبْدَ شَمْسٍ كَانُوا إِخْوَةً لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ، وَنَوْفَلٌ كَانَ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ، وَأُمُّهُ وَاقِدَةُ بِنْتُ حَرْمَلٍ، وَعَبْدُ مَنَافٍ وَعَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ بَنُو قُصَيٍّ كَانُوا إِخْوَةً، وَالْبِدَايَةُ بَعْدَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا وَقَعَتْ بِبَنِي عَبْدِ الْعُزَّى؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ قَبِيلَةَ خَدِيجَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهَا بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: وَفِيهِمْ: " إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ ".سیدنا زید بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاشم اور مطلب ایسے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔ ”اللہ لعنت کرے اس پر جو ان میں فرق کرے، انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی اور ہم نے ان کو بڑے ہو کر اٹھایا۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں سیدنا عثمان اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہما نے کلام کیا ہے، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل بھائی تھے تو انہوں نے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو دیا۔ عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا اور یہ بات کہی کہ وہ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ایک ہی ہیں۔ مرسل روایت میں ہے: ”بچپن میں میری تربیت کی اور ہم نے ان کا بوجھ اٹھایا“ یا کہا: ”انہوں نے ہمیں بڑی عمر میں اٹھایا۔“ (یعنی ہمارا بوجھ اٹھایا) اور انہوں نے کہا: واللہ اعلم
اس لیے کہ ہاشم بن عبد مناف نے سلمی بنت عمرو بن لبید بن حرام سے مدینہ میں شادی کی اور ان کا تعلق بنو نجار سے تھا۔ اس سے بچہ شبیہ الحمد پیدا ہوا۔ پھر ہاشم فوت ہو گئے اور وہ ان کی بیوی تھیں، جب وہ (بچہ) بڑا ہو گیا اور نشو و نما پا گیا تو ان کے چچا عبدالمطلب بن عبد مناف نے ان کو ان کی ماں سے لیا اور مکہ لے آئے۔ وہ ان کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ کہا گیا ہے کہ بچہ جیسا کہ مالک مطلب تو یہ نام غالب آ گیا، یعنی یہ ان کا نام پڑ گیا۔ ایک قول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے رسالت کا اعلان کیا تو آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کو تکلیف دی اور آپ ﷺ کے ساتھ برا ارادہ سوچا، تب عبدالمطلب، بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، خواہ ان میں سے مسلمان تھے یا کافر۔ انہوں نے آپ ﷺ کو ان کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب قریش کو علم ہو گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے ساتھ نکاح نہ کریں اور نہ ان کی طرف رشتہ بھیجیں، نہ ان سے کوئی خریدیں نہ بیچیں تو ابو طالب نے مکہ کے کونے میں شعب ابی طالب نامی گھاٹی کا ارادہ کیا اور وہاں چلے گئے۔ لیکن قریش بنو ہاشم اور عبدالمطلب کے متعلق دو سال یا تین سال اپنے معاہدے پر قائم رہے، یہاں تک کہ بنو ہاشم اور عبدالمطلب کو سخت اذیتیں اٹھانا پڑیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حشرات الارض (دیمک) کو اپنی رحمت کے ساتھ صحیفہ قریش پر بھیجا، وہ اللہ کے نام کے سوا ہر چیز کھا گئی۔ جبرائیل امین نے آپ ﷺ کو خبر دی اور رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو خبر دی اور ابو طالب نے اپنی قوم سے مدد مانگی۔ ہشام بن عمرو بن ربیعہ اپنی جماعت میں کھڑا ہوا۔ ابن اسحاق نے منذری میں صحیفہ کا نقص اور اس کے پھاڑنے کا ذکر کیا ہے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام عطیات میں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو اکٹھا دیا، انہیں بنو عبدشمس اور بنو نوفل پر مقدم کیا اور شروع میں بنو عبدشمس کو بنو نوفل سے پہلے دیا؛ کیونکہ ہاشم، عبدالمطلب اور عبدشمس حقیقی بھائی تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بنت مرہ ہے۔ نوفل ان کے علاتی بھائی تھے، ان کی والدہ کا نام واقدہ بنت حرمل تھا۔ عبد مناف، عبدالعزیٰ اور عبدالدار حقیقی بیٹے تھے اور بھائی تھے۔ ان کی ابتدا بنی عبدمناف کے بعد ہے اور وہ بنی عبدالعزیٰ میں واقع ہوئے ہیں؛ کیونکہ وہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہیں۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہیں۔