السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13090
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: جَاءَ سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، مَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ " وَأَمَّا تَيْمٌ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِكِلَابٍ، وَأَمَّا مَخْزُومٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَخًا لَهُمْ، وَإِنَّمَا هُوَ مَخْزُومُ بْنُ يَقَظَةَ بْنِ مُرَّةَ، إِلَّا أَنَّ الْقَبِيلَةَ اشْتُهِرَتْ بِمَخْزُومٍ فَنُسِبَتْ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَنِي تَيْمٍ عَلَى بَنِي مَخْزُومٍ؛ لِأَنَّهُمْ كَانُوا مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيَّبِينَ..حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کون ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن مالک بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ، جس نے اس کے علاوہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو۔“ رہے تیم تو وہ کلاب کے بھائی ہیں اور مخزوم ان کا بھائی نہیں تھا اور وہ مخزوم بن یقظہ بن مرہ ہیں مگر قبیلہ مخزوم مشہور ہو گیا، پس وہ اسی سے منسوب ہو گیا اور بنی تیم کو بنو مخزوم پر اس لیے مقدم کیا گیا کہ وہ حلف الفضول اور مطیبین میں تھے۔