السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ " قَالَ الْقُتَيْبِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: وَكَانَ سَبَبُ الْحِلْفِ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَتَظَالَمُ بِالْحَرَمِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جُدْعَانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَعَاهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ عَلَى التَّنَاصُرِ، وَالْأَخْذِ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ، فَأَجَابَهُمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَعْضُ الْقَبَائِلِ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ سَمَّاهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بْنُو هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَبَنُو زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَبَنُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: فَتَحَالَفُوا فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ، فَسَمَّوْا ذَلِكَ الْحِلْفَ حِلْفَ الْفُضُولِ تَشْبِيهًا لَهُ بِحِلْفٍ كَانَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ جُرْهُمٍ عَلَى التَّنَاصُفِ وَالْأَخْذِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، وَلِلْغَرِيبِ مِنَ الْقَاطِنِ، قَامَ بِهِ رِجَالٌ مِنْ جُرْهُمٍ يُقَالُ لَهُمُ: الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلُ بْنُ وَدَاعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ فَضَالَةَ، فَقِيلَ حِلْفُ الْفُضُولِ جَمْعًا لِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ. قَالَ غَيْرُ الْقُتَيْبِيِّ فِي أَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ: فَضْلٌ وَفَضَالٌ وَفُضَيْلٌ وَفَضَالَةُ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: وَالْفُضُولُ جَمْعُ فَضْلٍ، كَمَا يُقَالُ: سَعْدٌ وَسُعُودٌ، وَزَيْدٌ وَزُيُودٌ، وَالَّذِي فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: أَحْسِبُهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ؛ لِلْحَدِيثِ الْآخَرِ، وَلِأَنَّ الْمُطَيَّبِينَ هُمُ الَّذِينَ عَقَدُوا حِلْفَ الْفُضُولِ. قَالَ: وَأِيُّ فَضْلٍ يَكُونُ فِي مِثْلِ التَّحَالُفِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَأَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ " وَلَكِنَّهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ الَّذِي عَقَدَهُ الْمُطَيَّبُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالسِّيَرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ: إِنَّ قَوْلَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ، غَلَطٌ، إِنَّمَا هُوَ حِلْفُ الْفُضُولِ؛ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُدْرِكْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَدِيمًا قَبْلَ أَنْ يُولَدَ بِزَمَانٍ، ⦗٥٩٧⦘ وَأَمَّا السَّابِقَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَا سَابِقَةَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّهَا أَوَّلُ امْرَأَةٍ أَسْلَمَتْ.سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن جدعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف میں (معاہدے میں) شریک ہوا، اگر مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیے جائیں تو میں انہیں پسند نہ کرتا، اگر مجھے اسلام کی موجودگی میں بھی بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔“ قتیبی کہتے ہیں: حلف کا سبب قریشیوں کا حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا تھا۔ عبداللہ بن جدعان اور زبیر بن عبدالمطلب اس ظلم کے خلاف مدد کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور ظالم کے ظلم کو جو وہ مظلوم پر کرتے تھے، روکنے کے لیے کھڑے ہوئے، ان دونوں کی مدد کے لیے بنو ہاشم اور قریش کے بعض قبائل شریک ہوئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا نام ابن اسحاق ہے، کہتے ہیں: اس معاہدے میں یہ قبائل شامل تھے: بنی ہاشم بن عبدمناف، بنی مطلب بن عبدمناف، بنی اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تمیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: ان سب (قبائل) نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف اٹھایا اور اس کا نام حلف الفضول رکھا۔ ان دنوں مکہ میں جرہم قبیلے کی حکومت تھی، جو عدل و انصاف کرتے تھے، طاقت ور سے غریب کا حق لے کر دیتے تھے اور غریب کے لیے رہائش کا اہتمام کرتے تھے، ان ناداروں کے لیے جرہم قبیلے سے کچھ اشخاص کھڑے ہوئے جن کا نام فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضیل بن فضالہ تھا، کہا گیا ہے کہ حلف الفضول ان تمام لوگوں کے ناموں کا مجموعہ ہے۔ قتیبی کے علاوہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ تھے۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول فضل کی جمع ہے جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطلبیین ہے، قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی مراد حلف الفضول ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے، چونکہ مطلبیین وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا، پہلے معاہدوں میں سے کون سا اس سے افضل ہے؟ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ دیے جائیں۔“ لیکن ان کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطلبیوں نے طے کیا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ، بعض سیرت نگار اور تاریخ دان کہتے ہیں: ان کا اس حدیث میں کہنا کہ وہ معاہدہ (یعنی اس کا نام) حلف المطلبیین تھا، غلط ہے، وہ معاہدہ حلف الفضول ہی ہے، یہ اس لیے کہ نبی ﷺ نے حلف المطلبیین کا دور نہیں پایا اور وہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے تھا، اس حدیث میں جو مسابقت کا ذکر ہے وہ ممکن ہے کہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی مسابقتِ اسلام ہے، چونکہ وہ عورتوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئیں۔