کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْتَطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں کسی کو نماز کا حکم دوں، اذان کہی جائے اور میں کسی ایک کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں اور ان کے گھروں کو ان سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر ان میں سے ایک بھی جان لے کہ وہ موٹی ہڈی پائے گا یا وہ دو عمدہ ہڈیاں پائے گا تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہو گا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَجْبُورٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشا اور فجر کی نمازیں منافقین پر بھاری ہیں، اگر وہ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ گھٹنوں کے بل بھی چل کر آئیں، اور میں نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک شخص کو حکم دوں تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر میں کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو میں ان سمیت ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ بُيُوتًا عَلَى مَنْ فِيهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا گٹھا تیار کریں، پھر میں ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں ان گھروں کو جلا دوں اور جو لوگ ان میں ہیں۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ بِفِتْيَانٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ وَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ دُورَهُمْ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دوں، پھر میں نوجوانوں کو حکم دوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور میں لوگوں کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں جو اذان سن کر نماز کو نہیں آتے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَجْمَعُوا حُزَمًا مِنَ الْحَطَبِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ لَا يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ ". كَذَا قَالَ الْجُمُعَةَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ سَائِرُ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ عَبَّرَ بِالْجُمُعَةِ عَنِ الْجَمَاعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے نوجوانوں کو حکم دوں، وہ میرے لیے لکڑی کے گٹھے جمع کریں، پھر میں ان کو لے کر چلوں اور لوگوں کے گھر ان کے سمیت جلا دوں جو جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ أَوْ لِلنَّاسِ ثُمَّ يُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ تَخَلَّفُوا عَنِ الْجُمُعَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں میرا ارادہ یہ ہے کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر جمعہ سے پیچھے رہ جانے والے مردوں کو جلا دیا جائے۔“
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِي قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ ". قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ: يَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَةُ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا؟ فَقَالَ: صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کریں، پھر میں ایسے لوگوں کی طرف آؤں جو اپنے گھروں میں بغیر کسی عذر کے نماز پڑھتے ہیں اور میں ان کو ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔“
(ب) میں نے یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! جمعہ کے بارے میں یا اس کے علاوہ؟ وہ فرمانے لگے: میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہ سنا ہو کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے جمعہ اور اس کے علاوہ کا تذکرہ نہ کیا ہو۔
(ب) میں نے یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! جمعہ کے بارے میں یا اس کے علاوہ؟ وہ فرمانے لگے: میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہ سنا ہو کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے جمعہ اور اس کے علاوہ کا تذکرہ نہ کیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٨٠⦘ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْمَسْجِدِ، فَنَادَى الْمُنَادِي بِالْعَصْرِ، فَخَرَجَ رَجُلٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو الشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، مؤذن نے عصر کی اذان دی تو ایک شخص مسجد سے نکلا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهَانِ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَى رَجُلًا يَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
اشعث بن سلیم محاربی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک شخص کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے: ”یہ کیا ہے؟ اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ إِلَّا مُنَافِقٌ، إِلَّا رَجُلٌ يَخْرُجُ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ يُرِيدُ الرَّجْعَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اذان کے بعد مسجد سے منافق نکلتا ہے یا وہ شخص جس کو کوئی کام ہے اور وہ واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا لِعُذْرٍ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ سَعِيدٍ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ مَغْرَاءُ الْعَبْدِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مُسْنَدًا وَمَوْقُوفًا، وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سن کر نماز کے لیے نہیں آتا، اس کی نماز نہیں، لیکن عذر قابلِ قبول ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَمْ يُرِدْ خَيْرًا، أَوْ لَمْ يُرَدْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عدی بن ثابت انصاری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اذان کو سنا اور اس کو قبول نہ کیا، یعنی نماز کے لیے نہ آیا، اس نے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا تو اس سے بھی بھلائی نہیں کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحیان تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسجد کے ہمسائے کی نماز مسجد میں ہی ہوگی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ". فَقِيلَ لَهُ: وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: " مَنْ أَسْمَعَهُ الْمُنَادِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسجد کے ہمسائے کی نماز مسجد ہی میں ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا گیا: مسجد کا ہمسایہ کون ہے؟ فرماتے ہیں: جو اذان کی آواز کو سنتا ہے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ مِنْ جِيرَانِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ". وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسجد کے ہمسایوں میں سے جو اذان کو سنتا ہے اور وہ تندرست ہے اسے کوئی عذر نہیں، پھر بھی نماز کے لیے نہیں آتا تو اس کی کوئی نماز نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي بَيْتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ " فَقَالَ لَهُ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَجِبْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے نماز کے لیے لانے والا کوئی نہیں۔ آپ مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ ﷺ نے اس کو رخصت دے دی۔ جب وہ چلا تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور پوچھا: ”کیا اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ حَاتِمٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ⦗٨٢⦘ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْمَى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ وَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا، أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِي دَارِي؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَاخْرُجْ ". خَالَفَهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں اذان سنتا ہوں لیکن مجھے لانے والا کوئی نہیں، کیا میں اپنے گھر میں مسجد بنا لوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اذان سنتے ہو؟“ کہنے لگا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اذان سنتے ہو تو نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَاوِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: " أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رزین، سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بیمار آدمی ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے لانے والا کوئی نہیں جو پابندی کر سکے، کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اذان سنتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ أَبُو سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو رزین، ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سوال کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ السِّبَاعِ وَالْهَوَامِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسْمَعُ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيْ هَلَّا ". قَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: لَيْسَ فِي أَمَرِهِ هَذَا الْأَعْمَى بِحُضُورِ الْجَمَاعَةِ مَا يَدُلُّ أَنَّ حُضَورَهَا فَرْضٌ لِأَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِعِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ أَعْمَى، التَّخَلُّفَ عَنْ ⦗٨٣⦘ حُضُورِهَا فَدَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ " لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً " أَيْ لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً تَلْحَقُ فَضِيلَةَ مَنْ حَضَرَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا التَّأْوِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مدینہ میں موذی جانور اور درندے بہت زیادہ ہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» سنتے ہو؟ تو نماز کی طرف آؤ۔“
نوٹ: نابینا شخص کا نماز باجماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا“، یعنی نماز باجماعت میں حاضر ہونا لازم ہے۔
نوٹ: نابینا شخص کا نماز باجماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا“، یعنی نماز باجماعت میں حاضر ہونا لازم ہے۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي قَائِدًا لَا يُلَاوِمُنِي فِي هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ: " أِيُّ الصَّلَاتَيْنِ؟ " قُلْتُ: الْعِشَاءُ وَالصُّبْحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْقَاعِدُ عَنْهُمَا مَا فِيهِمَا لَأَتَاهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ". قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقِيلَ عَبْدَ اللهِ، وَقِيلَ عَمْرٌو.
حافظ ثناء اللہ
علاء بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے لانے والا موجود ہے لیکن ان دو نمازوں میں وہ مجھے نہیں لا سکتا۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون سی دو نمازیں؟“ انہوں نے کہا: ”عشاء اور صبح۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر لانے والا جان لے کہ ان دو نمازوں کا کیا اجر و ثواب ہے تو وہ ان کے وقت ضرور آئے، اگرچہ اس کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سَنَةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابواحوص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی ﷺ کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کر دیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ، لَا يَسْتَطِيعُونَهُمَا " أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَيُشْبِهُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَمِّهِ بِأَنْ يُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ أَنْ يَكُونَ مَا قَالَهُ فِي قَوْمٍ تَخَلَّفُوا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ لِنِفَاقٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق صبح اور عشاء کی نماز میں حاضر ہونا ہے، وہ ان میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی کو فجر اور عشاء کی نماز میں غائب پاتے تو ہمارا گمان ان کے بارے میں برا ہوتا۔