السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4936
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِي قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ ". قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ: يَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَةُ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا؟ فَقَالَ: صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.حافظ ثناء اللہ
یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کریں، پھر میں ایسے لوگوں کی طرف آؤں جو اپنے گھروں میں بغیر کسی عذر کے نماز پڑھتے ہیں اور میں ان کو ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔“
(ب) میں نے یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! جمعہ کے بارے میں یا اس کے علاوہ؟ وہ فرمانے لگے: میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہ سنا ہو کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے جمعہ اور اس کے علاوہ کا تذکرہ نہ کیا ہو۔