السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ". فَقِيلَ لَهُ: وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: " مَنْ أَسْمَعَهُ الْمُنَادِي ".حافظ ثناء اللہ
ابو حیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسجد کے ہمسائے کی نماز مسجد ہی میں ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا گیا: مسجد کا ہمسایہ کون ہے؟ فرماتے ہیں: جو اذان کی آواز کو سنتا ہے۔