السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4931
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَجْبُورٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشا اور فجر کی نمازیں منافقین پر بھاری ہیں، اگر وہ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ گھٹنوں کے بل بھی چل کر آئیں، اور میں نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک شخص کو حکم دوں تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر میں کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو میں ان سمیت ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔“